پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر نے بھارت کی جانب سے آپریشن سندور سے متعلق تیار کی گئی دستاویزی فلم کو حقائق کے منافی اور جنگی نتائج کو تبدیل کرکے پیش کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت معرکۂ حق کی حقیقت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہین ہے۔
جاری کیے گئے بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی کنٹینٹ کریئیٹرز نے سیاسی اور عسکری قیادت کو شامل کرتے ہوئے آپریشن سندور کا ایک انتہائی ڈرامائی اور حقائق سے متصادم بیانیہ دستاویزی فلم کی شکل میں پیش کیا ہے۔ بیان کے مطابق منتخب انداز میں ایڈٹ کیے گئے انٹرویوز، جذباتی بیانیے اور بالی ووڈ طرز کی فلمی منظرکشی کے ذریعے زمینی حقائق اور آپریشن کے نتائج کو تبدیل کر کے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دستاویزی فلم میں بنیادی نوعیت کے تضادات موجود ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واقعات کا ایسا ورژن تیار کرنے کی کوشش کی گئی جو بھارت کے اندر عوام کے لیے قابل قبول ہو۔
بیان میں کہا گیا کہ دستاویزی فلم میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف کے 16 اپریل 2025 کے خطاب اور 22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے درمیان دانستہ تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک سازشی نظریہ پیش کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بھارتی موقف میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بعد میں دعویٰ کیا تھا کہ پہلگام واقعے کے تین مبینہ ذمہ داروں کی شناخت کے بعد 28 جولائی 2025 کو ہلاک کیا گیا، جو آپریشن سندور کے 82 روز بعد کی تاریخ بنتی ہے۔ تاہم دستاویزی فلم آپریشن سندور کو پہلگام واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کرتی ہے۔ آئی ایس پی آر نے سوال اٹھایا کہ اگر مبینہ ملزمان 28 جولائی کو مارے گئے تو بھارت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ اس نے 7 مئی 2025 کو کس کو سزا دینے کا دعویٰ کیا تھا۔
آئی ایس پی آر نے دستاویزی فلم میں کیے گئے “100 فیصد مشن کامیاب”کے دعوے کو بھی زمینی اور عملی حقائق سے لاتعلق قرار دیا۔ بیان کے مطابق معرکۂ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کو ناکام بنایا اور 8 بھارتی فوجی طیارے مار گرائے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے بعدازاں آپریشن بنیان مرصوص کے دوران 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان اہداف میں وہ تنصیبات بھی شامل تھیں جو مبینہ طور پر ‘پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو ہوا دینے میں استعمال ہو رہی تھیں’۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی دستاویزی فلم میں خود بھارتی عسکری قیادت پاکستان کی وسیع پیمانے پر میزائل، ڈرون اور فضائی سرگرمیوں، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جھڑپوں اور بھارتی فضائی دفاعی نظام کو فعال کیے جانے کا اعتراف کرتی ہے۔ بیان کے مطابق یہ اعتراف پاکستان کو فیصلہ کن شکست دینے کے بھارتی دعووں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
جنگ بندی کے حوالے سے آئی ایس پی آر نے کہا کہ دستاویزی فلم کا اپنا بیانیہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فوجی کارروائیاں دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان رابطے اور فوجی کارروائیاں روکنے کے باہمی اتفاق کے بعد ختم ہوئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ بات خود اس تصور کی نفی کرتی ہے کہ آپریشن سندور بھارت کی یکطرفہ فوجی فتح تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکا کی سہولت کاری سے طے پانے جنگ بندی مفاہمت کو بعد میں بھارت کی غیر مشروط فتح کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ دستاویزی فلم کشیدگی کے معاملے پر بھی اپنے ہی بیانیے سے متصادم ہے۔ ایک جانب اس میں اچانک حملوں، انتہائی درست نشانہ بازی، گہرائی تک حملوں اور کشیدگی پر بھارتی برتری کے دعوے کیے گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب یہ کہا گیا ہے کہ بھارت نے جان بوجھ کر جنگ کو محدود رکھا اور پاکستان کو باہر نکلنے کا موقع فراہم کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ متضاد دعوے ظاہر کرتے ہیں کہ دستاویزی فلم ایک غیر جانب دار عسکری جائزے کے بجائے اندرون ملک استعمال کے لیے تیار کردہ بیانیہ ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے حقیقت کو خفیہ دستاویزات سے باہر لا کر واضح نہیں کیا بلکہ ایک پروپیگنڈا ویڈیو تیار کی ہے، جس کے ذریعے ایک عسکری ناکامی کو کامیاب کارروائی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ فلمی منظرکشی واقعات کی ترتیب تبدیل نہیں کر سکتی، طیاروں کے نقصانات مٹا نہیں سکتی، فوجی ہلاکتوں کو چھپا نہیں سکتی اور نہ ہی حقیقی فوجی جھڑپوں کے نتائج کو خود ساختہ فتح میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کو معرکۂ حق کے حوالے سے کوئی مصنوعی بیانیہ تیار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپریشنل ریکارڈ، میدان جنگ کے شواہد، سفارتی رابطے اور بھارت کے اپنے بعد کے بیانات حقائق کی گواہی دیتے ہیں اور عالمی برادری بھی انہیں وسیع پیمانے پر تسلیم کرتی ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے، تاہم پاکستان کی مسلح افواج ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور اہل ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا مضبوط، فیصلہ کن اور غیر متناسب جواب دیا جائے گا اور اس کے بعد بھارت کے لیے ‘کسی قسم کی فلمی یا پروپیگنڈا مہم کے ذریعے اپنی ساکھ بچانا ممکن نہیں ہوگا’۔