کانگو میں ایبولا کی موجودہ وبا ملک کی تاریخ کی سب سے جان لیوا وبا بن گئی، 2 ہزار 325 افراد ہلاک

جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی موجودہ وبا ملک کی تاریخ کی سب سے زیادہ جان لیوا وبا بن چکی ہے۔ عوامی صحت کے حکام کے مطابق 15 مئی کو وبا کے باضابطہ اعلان کے بعد سے اب تک 2 ہزار 325 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں، جو 2018 سے 2020 کے درمیان آنے والی وبا میں ہونے والی اموات سے بھی زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ یہ وبا ریکارڈ پر موجود تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وباؤں میں شامل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں اوسطاً ہر 30 منٹ میں ایک شخص اس بیماری کے باعث جان گنوا رہا ہے۔

ڈی آر کانگو کے ادارۂ صحت عامہ کے مطابق اتوار تک ملک میں ایبولا کے 4 ہزار 945 تصدیق شدہ کیسز ریکارڈ کیے جا چکے تھے، جن میں صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے 101 نئے کیسز بھی شامل ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق وائرس کا پھیلاؤ غیر معمولی رفتار سے جاری ہے اور یہ ڈی آر کانگو کے 26 میں سے 6 صوبوں تک پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ وبا کا باضابطہ اعلان مئی میں کیا گیا تھا، تاہم محققین کا خیال ہے کہ وائرس ممکنہ طور پر فروری سے ہی بغیر شناخت ہوئے پھیل رہا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں آنے والی دنیا کی مہلک ترین ایبولا وبا کو ایک ہزار اموات تک پہنچنے میں تقریباً پانچ ماہ لگے تھے، جبکہ موجودہ وبا صرف تین ماہ میں دو ہزار ہلاکتوں سے تجاوز کر گئی۔

موجودہ وبا ایبولا وائرس کی نسبتاً نایاب بنڈی بگیو قسم کی وجہ سے پھیلی ہے۔ اس قسم کے خلاف اس وقت کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں، تاہم کئی ویکسینز تیاری اور آزمائش کے مراحل میں ہیں۔

برطانیہ کے ادویات کے نگران ادارے ایم ایچ آر اے نے بنڈی بگیو ایبولا کے خلاف ایک نئی ویکسین کے پہلے انسانی آزمائشی مرحلے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ ویکسین آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم تیار کر رہی ہے اور اس میں وہی بنیادی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے جو آکسفورڈ-آسٹرازینیکا کووڈ-19 ویکسین میں استعمال ہوئی تھی۔ مزید تین ویکسینز بھی مختلف اداروں میں تیار کی جا رہی ہیں۔

ڈی آر کانگو سے باہر اب تک نسبتاً کم کیسز سامنے آئے ہیں۔ 12 اگست تک پڑوسی ملک یوگنڈا میں 20 کیسز کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ جرمنی میں دو افراد کا علاج کیا گیا اور فرانس میں ایک کیس رپورٹ ہوا۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر وائرس کی منتقلی کی رفتار کو قابو میں لایا جا سکے گا، تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ اس کا مطلب وبا کا مکمل خاتمہ نہیں بلکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کی جانب پیش رفت ہوگی۔

ایبولا ایک نایاب مگر مہلک وائرل بیماری ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد اور شدید تھکن شامل ہیں، جبکہ بعد میں قے، اسہال اور اعضا کے ناکارہ ہونے جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ وائرس متاثرہ شخص کے خون یا دیگر جسمانی سیالات سے رابطے کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں