کیا دنیا میں پہلے سے زیادہ زلزلے آ رہے ہیں؟

حالیہ ہفتوں میں انڈونیشیا، کولمبیا اور میکسیکو میں 7 یا اس سے زیادہ شدت کے زلزلوں اور جون میں وینزویلا میں دو طاقتور زلزلوں کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ کیا دنیا میں زلزلوں کی تعداد واقعی بڑھ رہی ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 20 ہزار زلزلے ریکارڈ ہوتے ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ 55، تاہم ان میں سے زیادہ تر اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ لوگ انہیں محسوس نہیں کرتے۔

2016 سے 2025 کے درمیان ہر سال اوسطاً 6 یا اس سے زیادہ شدت کے 133 زلزلے ریکارڈ ہوئے۔ 2024 میں ایسے زلزلوں کی تعداد سب سے کم 99 جبکہ 2021 میں سب سے زیادہ 157 رہی۔

2026 میں اگست کے وسط تک 6 یا اس سے زیادہ شدت کے 91 زلزلے ریکارڈ ہو چکے ہیں، جن میں 11 زلزلوں کی شدت 7 سے زیادہ تھی۔ یہ تعداد گزشتہ دہائی کی اوسط رفتار سے کچھ زیادہ ہے، تاہم اب بھی معمول کی حد کے اندر ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026 میں اب تک کوئی بھی زلزلہ 8 یا 9 شدت تک نہیں پہنچا۔

ماہرین کے مطابق زلزلے کی تباہ کاری کا انحصار صرف اس کی شدت پر نہیں ہوتا۔ زلزلے کی گہرائی، آبادی والے علاقوں سے فاصلہ، عمارتوں کی مضبوطی، زمین کی نوعیت اور سونامی یا لینڈ سلائیڈنگ جیسے ثانوی خطرات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی لیے گزشتہ دہائی کے سب سے زیادہ جان لیوا زلزلے لازماً سب سے زیادہ شدت والے نہیں تھے بلکہ وہ تھے جو گنجان آباد علاقوں کے قریب آئے۔

کیا زلزلوں کا کوئی خاص موسم ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق زلزلوں کا کوئی مخصوص موسم نہیں ہوتا۔ طویل مدتی اعداد و شمار میں سال کے کسی خاص حصے میں زلزلوں کے مستقل اضافے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق سائنس دان ابھی تک یہ پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ کوئی بڑا زلزلہ کب آئے گا، کیونکہ زمینی فالٹس پر دباؤ کئی دہائیوں یا صدیوں میں جمع ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زلزلے کہاں آتے ہیں؟
دنیا کے تقریباً 90 فیصد زلزلے بحرالکاہل کے ’رنگ آف فائر‘ کے علاقے میں آتے ہیں، جس میں جاپان، فلپائن اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ الپائڈ بیلٹ، جو جاوا سے ہمالیہ، ترکیہ اور بحیرہ روم تک پھیلا ہوا ہے، دنیا کے بڑے زلزلوں کا تقریباً 17 فیصد پیدا کرتا ہے۔

تاریخ کا سب سے طاقتور زلزلہ
اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور زلزلہ 22 مئی 1960 کو چلی کے شہر والڈیویا میں آیا تھا، جس کی شدت 9.5 تھی۔

2004 میں انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے قریب 9.1 سے 9.3 شدت کے زلزلے نے تباہ کن سونامی پیدا کیا تھا، جس میں بحر ہند کے مختلف ممالک میں تقریباً 2 لاکھ 28 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں