بھارت میں چینی کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، حکومت کا گنے سے ایتھنول کی پیداوار محدود کرنے پر غور

بھارت میں چینی کی ریکارڈ بلند قیمتوں پر قابو پانے کے لیے حکومت آئندہ سیزن میں گنے سے ایتھنول کی تیاری محدود کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ زیادہ گنا چینی کی پیداوار کے لیے استعمال ہو سکے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف دو حکومتی اور دو صنعتی ذرائع نے بتایا کہ اکتوبر سے شروع ہونے والے نئے سیزن میں اس پالیسی پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق بھارت کے دو بڑے گنا پیدا کرنے والے صوبوں مہاراشٹرا اور کرناٹک میں کم بارش کے باعث آئندہ سال چینی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی وجہ سے حکومت ایتھنول کے مقابلے میں چینی کی فراہمی کو ترجیح دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ ملکی مارکیٹ میں سپلائی بہتر ہو اور چینی درآمد کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

موجودہ سیزن میں، جو ستمبر کے آخر تک جاری رہے گا، شوگر ملز نے تقریباً 30 لاکھ میٹرک ٹن چینی، یعنی مجموعی پیداوار کا لگ بھگ 10 فیصد، ایتھنول بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اگر آئندہ سیزن میں اس مقدار کو محدود کیا جاتا ہے تو تقریباً اتنی ہی چینی مقامی مارکیٹ میں واپس آسکتی ہے۔

بھارت میں چینی کی قیمتیں گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً 10 فیصد بڑھ کر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق سپلائی میں کمی اور تہواروں کے موسم میں بڑھتی طلب کے باعث قیمتیں کم از کم اگلے تین ماہ تک بلند رہنے کا امکان ہے۔

بھارتی حکومت پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملانے کے پروگرام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، اس لیے اگر گنے سے ایتھنول کی پیداوار کم کی جاتی ہے تو مکئی اور چاول کا استعمال بڑھانا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک میں مکئی اور چاول کے ذخائر اس مقصد کے لیے کافی ہیں۔

بھارتی حکومت پہلے ہی چینی کی برآمدات پر پابندی عائد کر چکی ہے، جبکہ گزشتہ ماہ ڈیلرز کے لیے چینی کے ذخائر رکھنے کی مدت پر بھی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ صنعتی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ غور نئی پابندیاں شوگر انڈسٹری کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں ہوں گی کیونکہ ملز کو گنا ایتھنول کی طرف منتقل کرنے کے بجائے چینی تیار اور فروخت کرنے سے زیادہ آمدنی ملنے کی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں