امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ایران کی جانب سے ممکنہ ‘قاتلانہ حملے’ کے خطرے کے باعث خفیہ طور پر روانہ کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض عملے کو یہ تاثر دیا گیا کہ صدر ٹرمپ ایئر فورس ون میں برطانیہ روانہ ہو رہے ہیں، تاہم انہیں خفیہ طور پر ایک دوسرے فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا۔
ٹرمپ پہلے ٹیلی ویژن کیمروں کے سامنے پرانے ماڈل کے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے، لیکن واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کچھ ہی دیر بعد انہیں ایئرپورٹ کی کیٹرنگ گاڑی کے ذریعے ایک چھوٹے امریکی فوجی طیارے سی-32 اے تک پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اسی طیارے کے ذریعے برطانیہ میں رائل ایئر فورس ملڈن ہال تک سفر کیا۔
وائٹ ہاؤس نے خفیہ آپریشن کی تفصیلات کی براہ راست تصدیق نہیں کی، تاہم وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے کہا کہ امریکا کے کئی دشمن صدر کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس حکام نے ٹرمپ اور ان کے طیارے پر ممکنہ حملے کے خدشات ظاہر کیے تھے، جس کے بعد اضافی حفاظتی اقدامات کیے گئے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ اور چند معاونین ایئر فورس ون سے نکلنے کے لیے کیٹرنگ گاڑی میں سوار ہوئے، جبکہ طیارے میں موجود صحافیوں کو پرواز سے قبل کھڑکیوں کے پردے بند کرنے کی ہدایت کی گئی۔
برطانیہ پہنچنے کے بعد تصاویر میں ٹرمپ کو دوبارہ ایئر فورس ون طیارے سے اترتے دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صحافیوں کی نظروں سے دور دوبارہ ایئر فورس ون میں سوار ہوئے تھے۔
دوسری جانب امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومنتھل نے واقعے کی کانگریس سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔