آج کی مصروف زندگی میں لوگ قدرت سے دور ہوتے جا رہے ہیں، لیکن تحقیق کے مطابق درختوں اور سبز ماحول میں وقت گزارنا ذہنی سکون اور صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ درختوں، پارکوں اور سبز جگہوں میں کچھ وقت گزارنے کی عادت کو دنیا کے کئی ممالک میں صحت مند طرزِ زندگی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
تحقیقات کے مطابق قدرتی ماحول میں وقت گزارنے سے ذہنی دباؤ کم کرنے، موڈ بہتر بنانے اور ذہنی سکون حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ امریکی نیشنل پارکس سروس کے مطابق فطرت سے رابطہ انسان کی ذہنی صحت، تناؤ میں کمی اور مجموعی فلاح و بہبود پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
جاپان میں “فاریسٹ باتھنگ” یا شِنرن یوکو کے نام سے مشہور طریقہ بھی اسی تصور پر مبنی ہے، جس میں لوگ جنگلات میں پرسکون وقت گزارتے ہیں۔ جاپانی تحقیقاتی اداروں اور ماہرین کے مطابق جنگلاتی ماحول میں وقت گزارنے سے تناؤ سے متعلق ہارمونز میں کمی اور ذہنی سکون میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے مطابق قدرتی ماحول تک رسائی اور سبز جگہوں کے قریب رہنا جسمانی سرگرمی میں اضافے، ذہنی صحت میں بہتری اور بعض صحت کے خطرات میں کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق درختوں اور سبز ماحول میں وقت گزارنے کا فائدہ صرف خوبصورتی دیکھنے تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی دماغ کو آرام دینے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ قدرتی مناظر، پرندوں کی آوازیں اور کھلی ہوا انسان کو روزمرہ کے دباؤ سے عارضی فاصلے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پارکوں یا سبز علاقوں میں وقت گزارنے والے افراد زیادہ جسمانی سرگرمی کر سکتے ہیں، جیسے پیدل چلنا، جو دل کی صحت اور جسمانی فٹنس کے لیے اہم ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی ماحول میں وقت گزارنا کسی بیماری کا علاج نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی کا ایک حصہ ہے۔ بہتر نتائج کے لیے متوازن غذا، مناسب نیند اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی بھی ضروری ہے۔