اسپین کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے چند روز بعد تقریباً 60 ہزار افراد نے مراکش سے ہسپانوی علاقے سیوتا پہنچنے کی کوشش کی، جبکہ سوشل میڈیا پر اس فیصلے کو یورپ جانے کے کھلے موقع کے طور پر پیش کیا گیا۔
اسپین کی عدالت نے 29 جولائی کو فیصلہ دیا تھا کہ سمندر میں تیر کر سیوتا یا میلیلا پہنچنے والے افراد کو فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا، کیونکہ وہ زمینی سرحدی باڑ عبور نہیں کرتے۔ عدالت کے مطابق انہیں واپس بھیجنے سے پہلے باقاعدہ قانونی طریقہ کار مکمل کرنا ضروری ہے۔
چند ہی روز میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس فیصلے کو اس انداز میں پیش کیا کہ اسپین نے سمندری راستے سے آنے والوں کے لیے راستہ کھول دیا ہے اور اب انہیں واپس نہیں بھیجا جا سکے گا۔
الجزیرہ کے مطابق مراکش، الجزائر اور افریقا کے دیگر علاقوں میں انسانی سمگلنگ سے وابستہ نیٹ ورکس بھی اس مہم میں شامل ہوئے۔
جون کے آغاز میں بنائے گئے بعض اکاؤنٹس روزانہ لوگوں کو سمندر کے راستے سیوتا پہنچنے کی دعوت دیتے تھے۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے لوگوں کو اجتماعی سفر ترتیب دینے والے واٹس ایپ گروپس کی طرف بھی راعب کیاگیا۔
’ہگرہ سیوتا 26‘ نامی ایک فیس بک پیج پر تقریباً 38 ہزار اور انسٹاگرام پر 80 ہزار فالوورز تھے۔ اس پیج پر کامیابی سے تیر کر سیوتا پہنچنے والوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی گئیں۔
’حراگہ مراک‘ نامی ایک مقامی فیس بک گروپ کے 12 ہزار ارکان تھے۔ اس گروپ میں لوگوں کو سیوتا جانے کے لیے جمع ہونے کی ترغیب دی گئی اور راستوں سے متعلق عملی معلومات فراہم کی گئیں۔
سوشل میڈیا مواد میں اسپین یا یورپ میں ملازمت اور شادی کو ’خواب‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ بعض اکاؤنٹس نے اجتماعی سفر، جمع ہونے کے مقامات اور روانگی کی جگہوں کی معلومات بھی جاری کیں۔
رپورٹ کے مطابق اس مہم کے دوران تیراکی اور غوطہ خوری کا سامان، جبکہ ہوا سے بھری جانے والی کشتیاں فروخت کرنے کے اشتہارات بھی سامنے آئے۔ صارفین نے مراکش کے ساحل سے روانگی کے بہتر مقامات اور سیوتا تک پہنچنے کے طریقوں سے متعلق ہدایات شیئر کیں۔
نوجوانوں کے گروہ سیوتا کی سرحد کے قریب پہنچنے لگے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان اجتماعات کی خبریں پھیلنے سے تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔ یہ کوشش 28 جولائی اور اس کے بعد کے دنوں میں بڑے پیمانے پر سرحد عبور کرنے کی صورت اختیار کر گئی۔
ہسپانوی اخبار ’لا راثون‘ نے ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ مراکش، الجزائر، تیونس، فرانس اور امریکہ میں موجود سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور گروپس نے سیوتا جانے کے لیے پیغامات، راستوں کی معلومات اور تاراخال کی سمندری رکاوٹ عبور کرنے کے مشورے شیئر کیے۔
رپورٹ کے مطابق مہم کا کوئی ایک مرکزی انتظام نہیں تھا۔ مختلف افراد اور گروپس نے مواد بنانے، اسے پھیلانے، دوبارہ شیئر کرنے اور لوگوں کو منظم کرنے کا کام کیا۔ پہلی کوششوں کے مقابلے میں اس مرتبہ مختلف پلیٹ فارمز کے درمیان زیادہ رابطہ، ویڈیوز کا زیادہ استعمال اور عملی معلومات کی تیز تر ترسیل دیکھی گئی۔
اس مہم کے دوران فرح نامی ایک نوجوان مراکشی خاتون کی تصویر سب سے زیادہ نمایاں رہی۔ شمالی مراکش کے شہر العرائش سے تعلق رکھنے والی فرح نے فنیدق سے سیوتا کے ریبیرا ساحل تک پانچ کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ تیر کر طے کیا۔ ان کی تیراکی کے لباس میں مسکراتے ہوئے اور فتح کا نشان بناتے ہوئے تصویر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس مہم کے دوران جعلی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد بھی پھیلایا گیا۔ ایک ویڈیو میں ایک مراکشی شخص کو غیر معمولی مہارت سے تیرتے ہوئے دکھایا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ سیوتا جا رہا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو مغربی مراکش کے شہر الجدیدہ میں بنائی گئی تھی، جہاں وہ شخص کسی اور موقع پر تیراکی کی ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا۔
اس شخص نے خود ویڈیوز جاری کر کے نقل مکانی کی کوشش کی تردید کی اور کہا کہ اس کی ویڈیو کو اصل پس منظر سے ہٹا کر پیش کیا گیا۔
مراکشی انسانی حقوق کی تنظیموں نے نوجوانوں کی بڑی تعداد میں سیوتا کی جانب روانگی کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انتہائی دائیں بازو کے ایک نیٹ ورک نے ان ٹرکوں کی ویڈیوز استعمال کیں جن میں نوجوان سیوتا کی سرحد کی طرف جا رہے تھے اور قریب سکیورٹی و فوجی اہلکار بھی نظر آ رہے تھے۔ ان اکاؤنٹس نے اسے مراکشی حکومت کی رضامندی اور تارکین وطن کو سرکاری تحفظ دینے کا ثبوت قرار دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اسپین کی جانب سے غزہ جنگ کی مخالفت اور ایران کے خلاف امریکی جنگ میں شامل نہ ہونے کا ردعمل تھا۔ اسپین نے جنوبی علاقوں میں مشترکہ طور پر استعمال ہونے والے روٹا اور مورون فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
یہ بحران سیوتا اور میلیلا کی ملکیت پر مراکش اور اسپین کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔