بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ازبکستان اور کرغزستان کے دوروں کا امکان ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت نئی دہلی میں ازبک وزیرِ خارجہ بختیار سعیدوف اور بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔ کرغزستان کا دورہ بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوگا، جبکہ ازبکستان کا سفر الگ دوطرفہ دورہ ہوگا۔
بختیار سعیدوف نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران بھارتی صدر دروپدی مرمو سے بھی ملاقات کی۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے وزیراعظم مودی کے مجوزہ دورۂ ازبکستان کی تیاری شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے بھارت کو جنوبی ایشیا میں ازبکستان کا اہم اسٹریٹجک اور تجارتی شراکت دار قرار دیا۔
دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، تاہم فریقین اسے مزید بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ مذاکرات میں منڈیوں تک رسائی، سرمایہ کاری، کاروباری شراکت داری، توانائی، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ معدنیات اور نایاب زمینی دھاتوں کے شعبے میں بھی نئے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔
دفاعی تعاون بھی بھارت اور ازبکستان کے تعلقات کا اہم حصہ ہے اور دونوں ممالک باقاعدگی سے ’’دوستلیک‘‘ کے نام سے مشترکہ فوجی مشقیں کرتے ہیں۔ بھارتی پروگراموں کے تحت تین ہزار سے زیادہ ازبک ماہرین، سرکاری اہلکار اور طلبہ تربیت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ ازبکستان میں 16 ہزار سے زیادہ بھارتی طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مودی کا یہ ازبکستان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے قبل 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان کے دورے کر ہیں۔ مجوزہ دوروں کی حتمی تاریخیں اور مکمل پروگرام ابھی طے نہیں ہوا، تاہم انڈین میڈیا کے مطابق یہ سفر اگست کے آخری ہفتے میں ہو سکتا ہے۔