کانگو میں ایبولا سے 1,700 سے زیادہ اموات، عالمی ادارۂ صحت نے تجرباتی علاج کی آزمائشیں تیز کر دیں

جمہوریہ کانگو میں تیزی سے پھیلنے والی ایبولا کی وبا سے ہلاکتوں کی تعداد 1,700 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ تجرباتی علاج، حفاظتی ادویات اور ویکسینز کی آزمائشیں غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

کانگو حکومت کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق 15 مئی کو وبا کے اعلان کے بعد اب تک 3,802 مریض رپورٹ ہوئے، جن میں سے 1,707 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ وبا ایبولا وائرس کی نایاب بنڈی بگیو قسم کے باعث پھیلی ہے، جس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 17 ہزار سے زیادہ ایسے افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے جو متاثرہ مریضوں سے رابطے میں آئے تھے، جبکہ تقریباً 80 فیصد افراد کی روزانہ پیروی کی جا رہی ہے۔

موجودہ وبا اب تک ریکارڈ کی جانے والی ایبولا کی دوسری سب سے بڑی اور سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن چکی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے تحقیق اور ترقی کے پروگرام کے قائم مقام سربراہ واسی مورتھی نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ کئی سال کی پیشگی منصوبہ بندی کے باعث اس مرتبہ تجرباتی علاج کی آزمائشیں گزشتہ وباؤں کے مقابلے میں زیادہ جلد شروع کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طبی تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم صرف باقاعدہ کلینیکل ٹرائلز ہی یہ طے کریں گے کہ تجرباتی ادویات اور ویکسینز مؤثر ہیں یا نہیں۔

وبا کا مرکز کانگو کا مشرقی صوبہ اٹوری ہے، جہاں ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے تقریباً 90 فیصد کیسز سامنے آئے ہیں۔ تاہم ملک کے مزید پانچ صوبوں میں بھی انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں بڑا شہر کیسانگانی بھی شامل ہے۔

افریقا سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈائریکٹر جنرل جین کاسیا نے کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ وبا اپنی بلند ترین سطح پر کب پہنچے گی۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق وبا شروع ہونے کے بعد سے 100 سے زیادہ طبی کارکن بھی ایبولا سے متاثر ہو چکے ہیں۔ صحت حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والوں کی نشاندہی میں تاخیر، مسلح گروہوں کا تشدد، طبی مراکز پر حملے، متاثرہ آبادیوں تک رسائی میں مشکلات اور صحت حکام پر عدم اعتماد کے باعث امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔

وبائی ردعمل کو امدادی فنڈز میں کٹوتیوں کے بعد بڑے مالی خسارے کا بھی سامنا ہے۔

صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ کے باعث طبی کارکنوں میں بے چینی بھی بڑھ گئی ہے۔ شدید متاثرہ قصبے مونگبوالو میں طبی کارکنوں نے پیر کو خبردار کیا کہ اگر ان کی واجب الادا تنخواہیں 24 گھنٹوں کے اندر ادا نہ کی گئیں تو وہ احتجاجی کارروائی تیز کر دیں گے۔

بونیا میں بھی طبی کارکن تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور خطرناک حالاتِ کار کے خلاف پہلے ہڑتالیں کر چکے ہیں۔

موجودہ وبا گزشتہ تمام ایبولا وباؤں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلی ہے۔ 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقا میں ایبولا کی وبا سے تقریباً 28 ہزار افراد متاثر اور 11 ہزار سے زیادہ ہلاک ہوئے تھے۔ اس وبا میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچنے میں تقریباً آٹھ ماہ لگے تھے۔

پڑوسی ملک یوگنڈا نے جون کے وسط میں آخری مریض کے ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد خود کو ایبولا سے پاک قرار دے دیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں