آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث کئی ماہ سے تیل کی قیمتیں بلند ہیں اور دنیا بھر کی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کے اثرات امریکہ اور یورپ میں گھریلو اخراجات تک بھی پہنچے ، جہاں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ بڑی تیل کمپنیوں نے اربوں ڈالر کا منافع کمایا ہے۔
ایکسون موبل، شیورون، شیل، بی پی، ٹوٹل انرجیز اور سعودی آرامکو جیسی کمپنیوں کی آمدن میں ایسے وقت میں اضافہ ہوا ہے جب جنگ جاری ہے اور کشیدگی بحیرہ احمر تک پھیل رہی ہے۔
بڑی تیل کمپنیوں نے کتنا منافع کمایا؟
الجزیرہ کے مطابق امریکہ کی سب سے بڑی تیل کمپنی ایکسون موبل نے دوسری سہ ماہی میں 14.5 ارب ڈالر کا منافع رپورٹ کیا، جبکہ ایڈجسٹڈ آمدن 14.7 ارب ڈالر رہی۔ یہ کمپنی کا گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ سہ ماہی منافع تھا۔ ایران جنگ کے دوران بلند تیل کی قیمتوں اور ریفائننگ مارجن میں اضافے نے آمدن بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم قطر میں پیداوار متاثر ہونے کے باعث نتائج وال سٹریٹ کی توقعات سے کم رہے۔
امریکہ کی دوسری بڑی تیل کمپنی شیورون نے 12 ارب ڈالر کا سہ ماہی منافع کمایا، جو گزشتہ چھ برسوں میں اس کی بلند ترین سہ ماہی آمدن تھی۔ رائٹرز کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے کمپنی کے خام تیل کی پیداوار اور ریفائننگ، دونوں شعبوں کو فائدہ ہوا۔ پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدن سالانہ بنیاد پر 200 فیصد بڑھ کر 8.2 ارب ڈالر ہوگئی، جبکہ ریفائننگ اور فروخت سے 4.9 ارب ڈالر حاصل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق یورپ کی سب سے بڑی تیل کمپنی شیل کی دوسری سہ ماہی کی آمدن دو گنا سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 10 ارب ڈالر ہوگئی۔ تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتوں اور بعض مشرق وسطیٰ کی پیداوار متاثر ہونے کے باوجود مائع قدرتی گیس کے کاروبار کی مضبوط کارکردگی نے شیل کے منافع میں اضافہ کیا۔
فرانس کی ٹوٹل انرجیز کی آمدن میں دوسری سہ ماہی کے دوران 67 فیصد اضافہ ہوا، جو تقریباً تین سال میں کمپنی کی بہترین سہ ماہی کارکردگی تھی۔
برطانوی تیل کمپنی بی پی نے 5.73 ارب ڈالر کا منافع رپورٹ کیا، جو ایک سال پہلے کے 2.35 ارب ڈالر کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ تھا۔
سعودی آرامکو کا سہ ماہی منافع سالانہ بنیاد پر 44 فیصد بڑھ کر 32.69 ارب ڈالر ہوگیا۔ سعودی عرب کی مشرق مغرب پائپ لائن نے تیل کی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز پر ملک کا انحصار کم کرنے میں مدد دی ہے۔