‘سرحد بند کرنا مسئلے کا حل نہیں’، ضلع خیبر میں مظاہرین کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے استعفے کا مطالبہ

طورخم سرحد کی طویل بندش کے خلاف خیبر پختونخواہ کے ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کی بحالی کے لیے مؤثر آواز اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔

طورخم کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن اور مقامی نوجوان تنظیم، تنظیم نوجوانان کے زیر اہتمام لنڈی کوتل کے باچا خان چوک میں احتجاج منعقد ہوا۔ احتجاج میں مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی تنظیموں، قبائلی عمائدین اور مقامی نمائندوں نے شرکت کی۔

مقررین نے کہا کہ ضلع خیبر سے دو سینیٹر، ایک رکن قومی اسمبلی اور تین ارکان صوبائی اسمبلی منتخب ہیں، جن میں ایک صوبائی وزیر بھی شامل ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ ان کے مطابق اس کے باوجود تمام منتخب نمائندے طورخم سرحد دوبارہ کھلوانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔

مظاہرین نے کہا کہ سرحد کی بندش کو 10 ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن صوبائی حکومت اور مقامی منتخب نمائندوں نے سرحدی تجارت سے وابستہ ہزاروں افراد کو درپیش مالی، ذہنی اور جسمانی مشکلات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

مقررین نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت اور منتخب نمائندوں کے پاس سرحد کھلوانے کے لیے آواز اٹھانے کا اختیار نہیں تو انہیں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

احتجاجی شرکا نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت اور اس کے نمائندوں کی سرگرمیاں صرف سوشل میڈیا پوسٹس تک محدود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طورخم سرحد کی بندش کا معاملہ ابھی تک قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی یا سینیٹ میں مؤثر انداز میں نہیں اٹھایا گیا۔

مقررین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت اب تک سرحد کی بندش کے اصل اسباب اور اس فیصلے کے پیچھے موجود ادارے سے لاعلم ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو مشورہ دیا کہ جس طرح وہ اپنی جماعت کے قید رہنما کی رہائی کے لیے احتجاجی ریلیاں منعقد کرتی رہی ہے، اسی طرح طورخم سرحد کھلوانے کے لیے بھی احتجاجی مظاہرے کیے جائیں۔

مقررین کے مطابق سرحد کی بندش کے باعث سینکڑوں مقامی مزدور اور دیہاڑی دار بے روزگار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری اور ٹرانسپورٹرز کو بھی بڑے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک طرف وفاقی حکومت نے افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے اور اسے تیز بنانے کے لیے طورخم میں سرحدی ٹرمینل کی تعمیر پر لاکھوں روپے خرچ کیے، جبکہ دوسری طرف سکیورٹی کے نام پر سرحد اچانک بند کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت جاری رکھنے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنے کے بجائے سرحد بند کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں