خیبر پختونخوا میں 1970 سے اب تک پولیس اور فیڈرل کانسٹیبلری، ایف سی کے 2,600 سے زیادہ اہلکار جان سے جا چکے ہیں۔
سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 386 شہادتیں پشاور میں رپورٹ ہوئیں، جو صوبے کے کسی بھی ضلع میں سب سے بڑی تعداد ہے۔
بنوں 265 شہادتوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 249 اہلکار جان سے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق مردان میں 118، سوات میں 115، لکی مروت میں 96، چارسدہ میں 88، کوہاٹ میں 75، صوابی میں 66، لوئر دیر میں 65، ہنگو اور ٹانک میں 62، 62 اور نوشہرہ میں 59 اہلکار جان سے گئے۔
باجوڑ میں 52، خیبر میں 42، بونیر میں 39، شمالی وزیرستان میں 38، اپر دیر میں 37، مانسہرہ اور شانگلہ میں 31، 31، کرک میں 30، اپر جنوبی وزیرستان میں 26، ایبٹ آباد میں 16 اور ہری پور میں 14 اہلکاروں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
لوئر چترال، تورغر اور اورکزئی میں 9، 9 اہلکار، مہمند اور بٹگرام میں 8، 8، اپر چترال اور لوئر جنوبی وزیرستان میں 5، 5 جبکہ کوہستان میں دو اہلکار جان سے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والے اہلکاروں میں ایلیٹ فورس کے 134، فرنٹیئر ریزرو پولیس کے 240 اور ٹیلی کمیونیکیشن و ٹرانسپورٹ شعبے کے 22 اہلکار شامل ہیں۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری، سی پیک سے متعلق سکیورٹی پر تعینات 2 اہلکار بھی شہداء میں شامل ہیں۔
پولیس محکمے کی ایک اور دستاویز کے مطابق 1970 سے 2000 کے درمیان مجموعی طور پر 246 اہلکار جان سے گئے۔
ان میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 147 اہلکار، 53 ہیڈ کانسٹیبل، 24 اسسٹنٹ سب انسپکٹر، 16 سب انسپکٹر، 3 انسپکٹر، 2 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور 1 اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شامل تھے۔
دستاویز کے مطابق 2000 سے 2026 کے دوران 2,413 پولیس اہلکار جان سے گئے۔
ان میں 2 ایڈیشنل انسپکٹر جنرل، 2 ڈی آئی جی، 1 ایس ایس پی، 6 ایس پی، 22 ڈی ایس پی، 51 انسپکٹر، 146 سب انسپکٹر، 133 اسسٹنٹ سب انسپکٹر، 293 ہیڈ کانسٹیبل اور وفاقی کانسٹیبلری کے 1,766 اہلکار شامل ہیں۔
2000 سے 2026 کے دوران سب سے زیادہ 235 اہلکار 2025 میں جان سے گئے۔
ان میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 159 اہلکار، 51 پولیس ہیڈ کانسٹیبل، 15 اسسٹنٹ سب انسپکٹر، 6 سب انسپکٹر، 4 انسپکٹر اور 1 ڈی ایس پی شامل تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2001 اور 2002 میں 17، 17، 2003 میں 26، 2004 میں 24، 2005 میں 13، 2006 میں 27، 2007 میں 101، 2008 میں 172، 2009 میں 211 اور 2010 میں 108 اہلکار جان سے گئے۔
اسی طرح 2011 میں 154، 2012 میں 106، 2013 میں 135، 2014 میں 111، 2015 میں 61، 2016 میں 74، 2017 میں 36، 2018 میں 31، 2019 میں 42، 2020 میں 40، 2021 میں 63، 2022 میں 93، 2023 میں 197 اور 2024 میں 169 اہلکار جان سے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 235 جبکہ 2 جولائی 2026 تک 150 اہلکار جان سے گئے۔