یورپ میں خطرناک ہیٹ ویوز اور جنگلاتی آگ انسانی زندگی کو کیسے متاثر کر رہے ہیں؟

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث یورپ کی گرمیاں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ شدید گرمی، طویل خشک سالی، جنگلاتی آگ اور دریاؤں میں پانی کی کمی اب یورپ کے کئی حصوں میں موسم گرما کا مستقل حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق فرانس، برطانیہ اور اسپین کے بعض علاقوں میں مئی کے آخر اور جون کے دوران درجہ حرارت معمول سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ بلند رہا۔ جون میں مغربی یورپ کا اوسط درجہ حرارت 20.74 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو 1991 سے 2020 کے اوسط سے 3.06 ڈگری زیادہ تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہیٹ ویوز اب زیادہ عرصے تک رہتی ہیں اور وقت سے پہلے شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ہیٹ ویوز ایک ہی وقت میں زیادہ ممالک کو متاثر کرتی ہیں۔

شدید گرمی کے باعث پودے، جھاڑیاں اور گھاس خشک ہو کر آگ کے لیے ایندھن بن جاتی ہیں۔ تیز ہواؤں اور طویل خشک سالی کے باعث آگ تیزی سے پھیلتی ہے اور اسے قابو کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسپین، پرتگال، یونان، اٹلی اور فرانس جیسے بحیرہ روم کے ممالک پہلے بھی جنگلاتی آگ کا سامنا کرتے رہے ہیں، لیکن اب یہ زیادہ طویل رہتا ہے اور ایسے علاقوں تک بھی پہنچ رہا ہے جہاں پہلے خطرہ کم تھا۔

یورپی یونین کے مطابق گزشتہ سال کم از کم 10 لاکھ ہیکٹر رقبہ آگ سے متاثر ہوا، جو تاریخی اوسط سے تقریباً دو گنا زیادہ تھا۔ بعض شدید آگ کے واقعات میں ایسے دھوئیں کے بادل بنتے ہیں جو اپنے اندر موسم جیسی خصوصیات پیدا کر لیتے ہیں۔ یہ بادل تیز ہواؤں، بجلی گرنے اور کئی کلومیٹر دور نئی آگ لگنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

جنگلاتی آگ صرف گھروں اور جنگلات کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ حیاتیاتی تنوع کو متاثر کرتی، بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتی اور بعد میں آنے والی شدید بارشوں کے دوران زمین کے کٹاؤ اور سیلاب کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔

شدید گرمی نے یورپ کے پانی کے وسائل پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ زیادہ درجہ حرارت کے باعث دریاؤں، جھیلوں اور آبی ذخائر سے پانی کے بخارات بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے، جبکہ زمین میں نمی کم ہو جاتی ہے۔ پہاڑوں پر موجود برف بھی موسم بہار میں پہلے پگھل جاتی ہے، جس کے باعث گرم مہینوں میں پانی کی دستیابی کم ہو جاتی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق رائن، پو اور ڈینیوب جیسے بڑے دریاؤں میں حالیہ برسوں کے دوران پانی کی سطح غیر معمولی حد تک کم دیکھی گئی ہے۔ پانی کی کمی سے جہاز رانی متاثر ہوتی ہے، پن بجلی کی پیداوار کم ہوتی ہے اور وہ صنعتیں بھی مشکلات کا شکار ہوتی ہیں جو ٹھنڈک کے لیے دریا کے پانی پر انحصار کرتی ہیں۔

شدید گرمی کا سب سے زیادہ اثر زراعت پر بھی پڑ رہا ہے۔ جنوبی اور وسطی یورپ کے کسان کم پیداوار، مویشیوں پر گرمی کے اثرات اور آبپاشی کے لیے بڑھتی ہوئی ضرورت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پانی کم ہو رہا ہے۔ یورپی انویسٹمنٹ بینک اور یورپی کمیشن کی ایک تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث 2050 تک یورپ میں زرعی نقصانات میں 66 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے خوراک کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کچھ علاقوں میں طویل خشک سالی کے دوران پانی کے استعمال پر پابندیاں بھی لگائی جا رہی ہیں۔

شدید گرمی یورپ میں قدرتی خطرات میں سے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ بزرگ افراد، بچے اور پہلے سے بیماریوں کا شکار لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ہیٹ ویوز کے دوران اسپتالوں میں پانی کی کمی، ہیٹ اسٹروک اور دل کے امراض سے متعلق مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔

شہری علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہوتی ہے کیونکہ کنکریٹ اور سڑکیں گرمی جذب کر کے دیر تک برقرار رکھتی ہیں، جسے شہری گرمی کا اثر کہا جاتا ہے۔ ائیر کنڈیشنر کا بڑھتا استعمال وقتی سہولت فراہم کرتا ہے، لیکن اس سے بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہیٹ ویوز کے دوران لاکھوں افراد ٹھنڈک کے لیے بجلی استعمال کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف گرم دریاؤں کے باعث بجلی گھروں اور جوہری پلانٹس کو ٹھنڈا رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے مالی اثرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ یورپی ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق 1980 سے 2023 تک شدید موسمی واقعات سے یورپ کو 738 ارب یورو کا نقصان ہو چکا ہے۔ ان میں سے کم از کم 162 ارب یورو کا نقصان صرف حالیہ تین سالوں کے دوران ہوا۔

ماہرین کے مطابق اگر موسمیاتی اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک یورپی معیشت کو 5.6 ٹریلین یورو سے زیادہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔ جنگلاتی آگ سے گھر، سیاحت، کاروبار اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوتے ہیں، جبکہ خشک سالی زراعت کو نقصان پہنچاتی ہے۔

تعمیرات اور زراعت سے وابستہ بیرونی کارکنوں کے لیے بھی شدید گرمی میں کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یورپ آئندہ برسوں میں مزید گرم ہونے کا امکان ہے، جبکہ جنوبی یورپ میں زیادہ خشک اور گرم موسم کا خطرہ بڑھتا جائے گا۔ یہاں تک کہ شمالی یورپ کے نسبتاً ٹھنڈے علاقے بھی شدید ہیٹ ویوز کا سامنا کر سکتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق کئی یورپی شہر درخت لگا کر سایہ بڑھانے، سڑکوں کے ڈیزائن میں تبدیلی، وارننگ سسٹم بہتر بنانے اور کمزور افراد کے لیے کولنگ سینٹرز قائم کرنے جیسے اقدامات کر رہے ہیں۔ پانی کے تحفظ، جنگلات کے بہتر انتظام اور مضبوط انفراسٹرکچر پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق زراعت میں کسان خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں، نئے طریقہ کاشت اور بہتر آبپاشی کے نظام آزما رہے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ صرف موافقت کے اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی کے بغیر شدید موسم کے واقعات مستقبل میں مزید عام ہوتے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں