جاپانی کرنسی ین کو سہارا دینے کے لیے امریکا اور جاپان کی مشترکہ کوشش

جاپان اور امریکہ نے جاپانی کرنسی ین کی قدر میں مسلسل کمی روکنے کے لیے غیر معمولی مشترکہ کوشش کی تصدیق کی ہے۔ جاپانی ین کی قدر 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک نے مل کر مارکیٹ میں ین خریدا۔ جاپان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر مزید مشترکہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

جاپان کی وزارت خزانہ نے مشترکہ کوشش کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتوار کے بیان کے بعد کی۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ جاپانی ین کو سہارا دینے میں مدد کر رہا ہے، جو جاپان کے ساتھ دوستی اور عالمی معیشت کی حمایت کی علامت ہے۔ ایک صحافی کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ جاپان کا ین کمزور ہو رہا تھا اور اسے کچھ مدد درکار تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمیشہ جاپان کے ساتھ موجود ہے۔

اعلان کے بعد جاپانی ین کی قدر میں تیزی سے اضافہ ہوا اور کرنسی کے تاجروں نے مزید ممکنہ حکومتی مداخلت کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کیا۔ ین کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 1.4 فیصد تک بڑھی اور ایک ڈالر کے مقابلے میں 155.20 ین کی تقریباً تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

اس سے قبل دو تجارتی سیشنز کے دوران بھی ین کی قدر میں مجموعی طور پر 3.8 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ جاپانی کرنسی یورو اور برطانوی پاؤنڈ سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں بھی مضبوط ہوئی۔

ین کی بڑے پیمانے پر خریداری سے امریکی ڈالر پر دباؤ بھی بڑھا۔ پیر کو ایشیائی تجارت کے آغاز میں یورو ڈیڑھ ماہ کی بلند ترین سطح 1.1559 ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ تقریباً دو ہفتوں کی بلند سطح 1.3476 ڈالر کے قریب رہا۔

تاہم ین کی تیز رفتار مضبوطی کا جاپانی حصص بازار پر منفی اثر پڑا۔ جاپان کا نکی شیئر انڈیکس گر گیا اور گزشتہ تجارتی سیشن میں حاصل کی گئی ایک ہفتے کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشترکہ کوشش سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور جاپان ین اور جاپانی سرکاری بانڈز کی فروخت کے عالمی اثرات کو روکنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ اس صورتحال سے پہلے ہی بڑھتی ہوئی امریکی حکومتی بانڈز کی شرح منافع پر بھی مزید دباؤ پڑ سکتا تھا۔

جاپان طویل عرصے سے اپنی کرنسی میں مسلسل کمی روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کمزور ین کے باعث درآمدی اشیا مہنگی ہوئی ہیں اور ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے گھریلو اخراجات متاثر ہوئے اور وزیراعظم سانائے تاکائچی کی مقبولیت پر بھی دباؤ پڑا۔

جاپان کی وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ کے ساتھ جمعے کو ین خریدنے کے اقدامات کا مقصد حالیہ مہینوں میں جاپانی کرنسی میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور بے ترتیبی کو روکنا تھا۔ وزارت نے کہا کہ وہ امریکی محکمہ خزانہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید مشترکہ کوشش سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

یہ 2011 کے بعد امریکہ اور جاپان کی پہلی مشترکہ کرنسی مداخلت ہے۔2011 میں مشرقی جاپان میں تباہ کن زلزلے کے بعد ین کو کمزور کرنے کے لیے مشترکہ کارروائی کی گئی تھی۔

بینک آف جاپان کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹوکیو نے جمعرات کو نیویارک کی مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے ین خریدنے کے لیے تقریباً 58 ارب 97 کروڑ ڈالر فروخت کیے ہوں گے۔

اس کے بعد جمعے کو واشنگٹن کے ساتھ مشترکہ اقدامات کیے گئی۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھی جمعے کی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر مزید مشترکہ مداخلت میں حصہ لینے سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ین کی نمایاں کم قیمت درست کرنے کے لیے جاپان کے فیصلہ کن مالیاتی اور مارکیٹ اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے بینک آف جاپان سے شرح سود میں مزید اضافے کا مطالبہ بھی دہرایا۔

اپنا تبصرہ لکھیں