وزیراعظم مودی کا ’کاکروچ احتجاج‘ کے دوران انہیں گالیاں دینے والے طلبہ کو معاف کرنے کا اعلان

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ماہ احتجاج کے دوران انہیں اور ان کی مرحوم والدہ کو گالیاں دینے والے طلبہ کو معاف کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے بعض طلبہ کو ’گمراہ بچے‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سزا دینے کے بجائے درست راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔

مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے سب سے بڑے سیاسی بحران کا آغاز مئی میں اس وقت ہوا، جب میڈیکل انٹری امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا اور 20 لاکھ سے زیادہ طلبہ کو اگلے ماہ دوبارہ امتحان دینا پڑا۔

امتحانی نظام میں باضابطگیوں کے خلاف طلبہ میں پہلے ہی غم و غصہ تھا لیکن پھر انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ایک متنازع بیان نے بڑی طلبہ تحریک کو جنم دیا۔

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیسے بنی؟

یہ طنزیہ تحریک اس وقت وجود میں آئی چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران بے روزگار نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ سے تشبیہ دی۔ اس بیان پر طلبہ کی جانب سے سخت ردعمل آیا۔ امریکا میں مقیم انڈین طالب علم ابھیجیت دپکے نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ‘کیا ہوگا اگر یہ تمام کاکروچ ایک جگہ اکھٹے ہو جائیں’۔

یہ جملہ چند گھنٹوں میں کافی وائرل ہوا اور پھر ابھیجیت دپکے نے ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے نام سے سوشل میڈیا اکاونٹس بنائے۔ یہ تحریک چند دنوں میں پوری دنیا میں مشہور ہو گئی۔

یہ تحریک ابتدا میں تعلیمی اصلاحات کے مطالبے تک محدود تھی لیکن بعد میں ایک بڑی عوامی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ اس تحریک کے تحت نئی دہلی میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے، جبکہ انڈیا کے دیگر شہروں میں بھی اسی نوعیت کے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

ایک ماہ سے جاری یہ احتجاج اس وقت ختم ہوا، جب مودی حکومت نے مظاہرین کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے۔ ان مطالبات میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ بھی شامل تھا۔ حکومت نے یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ مظاہرین کے خلاف فوجداری مقدمات نہیں چلائے جائیں گے۔

تاہم مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاستوں میں سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں اور وزیراعظم کے خلاف توہین آمیز نعرے لگانے کے الزام میں سینکڑوں مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔

جمعے کی شب سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں نریندر مودی نے کہا کہ ‘یہ گمراہ بچے ہیں اور انہیں درست راستہ دکھانا ہماری ذمہ داری ہے’۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سزا دینا، عدالتوں کے چکر لگوانا یا معاشرے میں اذیت دینا صورتحال کو تبدیل نہیں کرے گا۔ مودی نے کہا کہ احتجاج کے دوران انہیں اور ان کی مرحوم والدہ کو انتہائی نازیبا الفاظ کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے ‘کلچرل شاک’ ہے کہ ہماری بیٹیاں اس طرح کی زبان کیسے استعمال کر سکتی ہیں، تاہم وہ انہیں معاف کرنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ ماہ مظاہروں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ نئی دہلی میں پارلیمان کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین پر آنسو گیس، پیلٹ گنز اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا گیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے عہدیداران نے پیر کو کہا تھا کہ مختلف ریاستوں میں سینکڑوں طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تحریک کے مطابق یہ گرفتاریاں حکومت کے اس وعدے کی خلاف ورزی ہیں کہ مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں گے۔

اپوزیشن حکومت سے وزیر داخلہ امیت شاہ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہے، جو مودی کے قریبی ساتھی ہیں اور دہلی میں امن و امان کے ذمہ دار ہیں۔

احتجاج کے بعد مودی حکومت نے پارلیمان میں سرکاری امتحانات سے متعلق قانون میں ترمیم کا بل بھی پیش کیا۔ بل میں امتحانی پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کے لیے طویل قید اور زیادہ جرمانوں کی تجویز دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں