مراکش سے تقریباً 50 ہزار تارکینِ وطن جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب اسپین کے زیرِ انتظام شمالی افریقی شہر سیوتا میں داخل ہوئے، جبکہ سرحدی افراتفری کے دوران کم از کم 60 افراد ہلاک ہو گئے۔
بڑی تعداد میں لوگوں نے سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات دیکھنے کے بعد سرحد کا رخ کیا کہ مراکش اور سیوتا کے درمیان سخت نگرانی والی گزرگاہ کھول دی گئی ہے۔ بعض افراد نے سرحدی باڑ عبور کی، کچھ جالی میں موجود راستوں سے نکلے، جبکہ کئی لوگ تیر کر یا ربڑ کے حفاظتی آلات کی مدد سے سمندر پار کر کے سیوتا پہنچے۔
اسپین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق تقریباً 84 ہزار آبادی والے شہر میں چند گھنٹوں کے دوران اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد نے شدید انسانی اور انتظامی بحران پیدا کر دیا۔ شہر کی دکانیں بند رہیں، مقامی افراد گھروں میں محدود ہو گئے اور ہزاروں تارکینِ وطن سڑکوں، ساحلوں، پلوں کے نیچے اور کھلے مقامات پر جمع رہے۔
کئی تارکینِ وطن کا کہنا تھا کہ وہ روزگار کی تلاش میں اسپین آئے تھے، لیکن شہر پہنچنے کے بعد انہیں خوراک، پانی اور رہائش کی سہولت نہیں ملی۔ ہسپانوی فوج اور پولیس نے شہر اور ساحلی علاقوں میں نگرانی سخت کر دی اور لوگوں کو واپس مراکش جانے کی ہدایت کی۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے سیوتا کا دورہ کرتے ہوئے بڑی تعداد میں لوگوں کے داخلے کو ملکی سرحدی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے انسانی اسمگلروں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے لوگوں کو اسپین میں پناہ حاصل کرنے کے امکانات کے بارے میں گمراہ کیا۔
تاہم کئی تارکینِ وطن نے شبہ ظاہر کیا کہ مراکشی حکام نے کسی سیاسی مقصد کے تحت سرحد پر نگرانی نرم کی۔ مراکش کی جانب سے اس بارے میں واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
جمعے کی شام تک اسپین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق 48 ہزار 300 افراد واپس مراکش جا چکے تھے۔ ہسپانوی فوج نے عربی زبان میں اعلانات کے ذریعے تارکینِ وطن کو واپسی کی ہدایت کی، جبکہ سرحدی علاقے میں لوگوں کی بڑی قطاریں دیکھی گئیں۔