سری لنکا کے پاتھریگے نے نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم کو شکست دے کر جیولن تھرو میں سونے کا تمغہ جیت لیا

سری لنکا کے رومیش تھرنگا پاتھریگے نے 2026 کامن ویلتھ گیمز کے مردوں کے جیولن تھرو مقابلے میں سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ یہ ایتھلیٹکس میں سری لنکا کا پہلا گولڈ میڈل ہے۔

گلاسگو میں ہونے والے فائنل میں 23 سالہ پاتھریگے کا مقابلہ پاکستان کے ارشد ندیم اور انڈیا کے نیرج چوپڑا سمیت مضبوط کھلاڑیوں سے تھا۔ دفاعی چیمپیئن ارشد ندیم، جنہوں نے پیرس اولمپکس 2024 میں بھی سونے کا تمغہ جیتا تھا، تین تھروز کے بعد حیران کن طور پر مقابلے سے باہر ہو گئے۔ ارشد ندیم کی بہترین تھرو 77.41 میٹرز رہی۔

پاتھریگے کی ابتدائی پانچ کوششوں میں صرف ایک تھرو درست قرار پایا، تاہم ان کا 89.75 میٹر کا تھرو سونے کا تمغہ جیتنے کے لیے کافی ثابت ہوا۔

نیرج چوپڑا نے 85.83 میٹر کی سیزن کی بہترین تھرو کے ساتھ چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ انڈیا ہی کے یش ویر سنگھ نے 85.41 میٹر کی تھرو کے ساتھ کانسی کا تمغہ جیتا۔

فائنل میں شامل پانچ کھلاڑی اس سے قبل اپنے کیریئر میں 90 میٹر سے زیادہ تھرو کر چکے تھے، جن میں عالمی چیمپیئن کیشورن والکوٹ بھی شامل تھے۔

ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کے والکوٹ ابتدائی پانچ کوششوں میں مشکلات کا شکار رہے اور آخری تھرو میں 82.55 میٹر کا فاصلہ طے کر کے چھٹے نمبر پر رہے۔

پاتھریگے نے اپنے کھیلوں کے کیریئر کا آغاز کرکٹ میں فاسٹ بولر کے طور پر کیا تھا۔ نوجوانی میں ان کی بولنگ کی رفتار 134 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی تھی۔

کرکٹ میں سب سے تیز گیند کا ریکارڈ پاکستان کے شعیب اختر کے پاس ہے، جنہوں نے 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرائی تھی اور وہ ’راولپنڈی ایکسپریس‘ کے نام سے مشہور تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں