شدید مخالفت کے بعد فیفا نے ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کا مجوزہ منصوبہ ختم کر دیا

عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی فیفا نے اعلان کیا ہے کہ ورلڈ کپ سمیت دیگرمقابلوں کو چلانے والے نئے ادارے میں بیرونی سرمایہ کاروں کو حصص فروخت کرنے کا منصوبہ آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔

فیفا نے یہ فیصلہ اس منصوبے پر رکن ایسوسی ایشنز اور فٹبال کی علاقائی تنظیموں کی شدید مخالفت کے بعد کیا ہے۔ منصوبے کے تحت فیفا ایک نیا ادارہ قائم کرنا چاہتا تھا، جس کی مجموعی مالیت 20 ارب ڈالر مقرر کی گئی تھی۔ فیفا اس ادارے کے تقریباً 20 فیصد حصص فروخت کر کے 4.2 ارب ڈالر تک حاصل کرنا چاہتا تھا۔

یہ ادارہ ورلڈ کپ سمیت فیفا کے دیگر مقابلوں کا انتظام سنبھالتا۔

منگل کو سامنے آنے والی اس تجویز کی یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفا نے سخت مخالفت کی تھی۔ یوئیفا نے جمعرات کو فیفا کے مقابلوں کے بائیکاٹ کے حق میں ووٹ دیا۔ یوئیفا نے ایک بیان میں کہا کہ فٹبال کے لیے اتنی اہم تجویز کو خفیہ طور پر تیار کرنا غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل دفاع اقدام تھا۔

تنظیم نے فیفا پر فٹبال کی روح کو فروخت کے لیے پیش کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے جمعے کی شب جاری بیان میں کہا کہ تمام آراء کو غور سے سننے کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ اس منصوبے نے ایسی تقسیم پیدا کر دی ہے جو اس کے اصل مقصد کے مفاد میں نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ فیفا کا مقصد ہمیشہ فٹبال کو متحد کرنا اور بہتر بنانا رہا ہے، اسی لیے یہ تجویز اب آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔

جمعے کو اس اعلان سے قبل انفانٹینو کے سینئر مشیر کارلوس کوردیرو نے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے اس منصوبے کو فٹبال کے لیے ایک برا سودا قرار دیا تھا۔

فیفا کے چیف آپریٹنگ افسر کیون لامور نے کہا کہ عملے کو انفانٹینو نے دھوکے میں رکھا اور اس تجویز کو ایک شخص کا منصوبہ قرار دیا۔

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھی جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انفانٹینو فیفا کی قیادت کے لیے درست شخص نہیں ہیں۔

اس منصوبے کے خلاف شدید ردعمل کے بعد انفانٹینو کی صدارت کے بارے میں بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ 56 سالہ انفانٹینو سوئٹزرلینڈ میں اطالوی والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔

وہ پہلے ہی ورلڈ کپ 2026 کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے مبینہ تعلقات کے باعث دباؤ میں تھے۔ صدر ٹرمپ نے بتایا تھا کہ انہوں نے امریکی کھلاڑی فولارن بالوگن کو دکھائے گئے ریڈ کارڈ کے معاملے پر انفانٹینو کو فون کیا تھا۔ بعد میں اس ریڈ کارڈ کی سزا ایک سال کے لیے معطل کر دی گئی اور کھلاڑی کو امریکہ کا اگلا ورلڈ کپ میچ کھیلنے کی اجازت مل گئی۔

منصوبے کے تحت ممکنہ طور پر تھرائیو کیپیٹل کے بانی جوشوا کشنر، تھرائیو ایٹرنل نامی فنڈ کے ذریعے مجوزہ سرمایہ کار گروپ کی قیادت کرنے والے تھے۔ جوشوا کشنر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بھائی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو کیمپ ڈیوڈ میں کہا کہ انہوں نے فیفا کے بیرونی سرمایہ کاروں کو حصص فروخت کرنے کے معاملے پر انفانٹینو سے بات نہیں کی۔

انفانٹینو 2031 تک آخری مدت کے لیے دوبارہ انتخاب لڑنے والے ہیں۔ حالیہ ورلڈ کپ کی مجموعی کامیابی کے بعد توقع تھی کہ وہ بلا مقابلہ منتخب ہو جائیں گے۔ یہ ورلڈ کپ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا۔

تاہم نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد ان کے کردار سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔

ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن، اے ایف سی، انفانٹینو کی 11 سالہ صدارت کے دوران ان کی اہم اتحادی رہی ہے۔ تاہم نجی سرمایہ کاری کے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اے ایف سی نے کہا کہ فیفا کو اپنے انتظامی انداز کا فوری جائزہ لینا چاہیے۔

اے ایف سی کے مطابق اس منصوبے نے فیفا کے مشاورتی اور فیصلہ سازی کے عمل میں بنیادی کمزوریاں ظاہر کی ہیں، جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ تنظیم نے فیفا سے اپنے نظم و نسق اور فیصلہ سازی کے ڈھانچے کا فوری جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں