چینی مصنوعی ذہانت (AI) ماڈلز امریکا اور دیگر عالمی مارکیٹوں میں تیزی سے توجہ حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ صارفین مہنگے امریکی اے آئی سسٹمز کے مقابلے میں کم لاگت، اوپن سورس اور مؤثر متبادل تلاش کر رہے ہیں۔
موزیلا کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر رافی کریکوریان نے بتایا کہ انہوں نے روزمرہ کے کئی کاموں کے لیے چینی اے آئی اسٹارٹ اپ مون شاٹ کے Kimi K3 ماڈل کا استعمال شروع کر دیا ہے، جسے انہوں نے مہنگے کلاڈ چیٹ بوٹ کے مقابلے میں زیادہ تیز قرار دیا۔ اس سے قبل وہ چین کے ایک اور ماڈل Z.ai کے GLM-5.2 کو بھی استعمال کر چکے ہیں۔
امریکا میں مزید صارفین اور کمپنیاں چینی اے آئی ٹولز کی جانب متوجہ ہو رہی ہیں، کیونکہ یہ کم قیمت میں بہتر صلاحیتیں فراہم کر رہے ہیں۔ کرپٹو کرنسی ایکسچینج کوائن بیس سمیت کئی ادارے اخراجات کم کرنے کے لیے چینی ماڈلز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
چینی اے آئی ماڈلز کی بڑھتی مقبولیت نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں تشویش بھی پیدا کی ہے، خاص طور پر دانشورانہ ملکیت اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے حوالے سے۔ امریکا نے چین کو جدید اے آئی چپس کی فراہمی پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ بیجنگ نے امریکی الزامات کو مسترد کیا ہے۔
چینی کمپنیوں، جن میں ڈیپ سیک، مون شاٹ، زی ڈاٹ اے آئی اور علی بابا شامل ہیں، کے نئے ماڈلز کو کئی شعبوں میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے معروف امریکی سسٹمز کا مقابل سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اوپن سورس ٹیکنالوجی چینی کمپنیوں کو عالمی سطح پر اپنا اثر بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی اے آئی ماڈلز اب بھی مجموعی صلاحیتوں میں امریکا کے سب سے جدید سسٹمز سے پیچھے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان اے آئی مقابلہ اب صرف ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ نہیں بلکہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان عالمی اے آئی پلیٹ فارمز بنانے کی جنگ بھی بن چکا ہے۔