پاکستان کا نام جنگی خطرات والے سمندری علاقوں کی فہرست سے خارج

لائیڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ وار کمیٹی نے پاکستان اور اس کی سمندری حدود کو جنگی خطرات والے علاقوں کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔

اس فیصلے سے پاکستان آنے اور جانے والے بحری جہازوں کے لیے جنگی خطرے کی انشورنس کے اضافی اخراجات اور شپنگ لاگت میں کمی متوقع ہے۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستانی برآمدات کی مسابقت بہتر ہوگی اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔

ان کے مطابق اس پیش رفت سے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر عالمی شپنگ لائنز اور سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پُرکشش بن سکتے ہیں، جبکہ علاقائی تجارت، ٹرانزٹ کارگو اور سامان کی منتقلی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

پاکستان اور اس کی سمندری حدود تقریباً دو دہائیوں سے اس فہرست میں شامل تھیں، جس کے باعث پاکستانی بحری تجارت پر اضافی انشورنس پریمیم اور سرچارج عائد ہوتے تھے۔

وزیراعظم نے اس معاملے پر ایک خصوصی کمیٹی قائم کی تھی، جس نے لائیڈز کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیے اور تکنیکی شواہد اور اعدادوشمار کی بنیاد پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک کی بحری تجارت پر اضافی مالی بوجھ کم ہوگا اور پاکستان کو علاقائی لاجسٹکس، ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں