فیفا ورلڈ کپ میں حصص فروخت کرنے کا نیا منصوبہ کیا ہے اور پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟

48 ٹیموں پر مشتمل فیفا ورلڈ کپ 2026 ختم ہوئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا، لیکن عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی فیفا کی جانب سے مستقبل کے ورلڈ کپ اور دیگر مقابلوں میں نجی سرمایہ کاروں کو حصص فروخت کرنے کے منصوبے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

اسپین نے فائنل میں ارجنٹائن کو شکست دے کر ورلڈ کپ جیتا تھا، تاہم اب فیفا اور اس کے صدر جیانی انفانٹینو ایک نئے تجارتی منصوبے کے باعث تنقید کی زد میں ہیں۔

یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفا سے لے کر برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم تک کئی حلقوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے، جبکہ یوئیفا کی جانب سے بائیکاٹ کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

فیفا کا نیا منصوبہ کیا ہے؟
فیفا نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ کھیل کی آمدن میں اضافے کے لیے مستقبل کے ورلڈ کپ اور دیگر مقابلوں میں نجی سرمایہ کاروں کو حصص فروخت کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس تجویز کے تحت ورلڈ کپ اور دیگر مقابلوں کو چلانے کے لیے 20 ارب ڈالر مالیت کی ایک ذیلی کمپنی قائم کی جائے گی۔ اس ادارے کا نام فیفا فارورڈ انٹرپرائز، ایف ایف ای رکھنے کی تجویز ہے۔

فیفا کا کہنا ہے کہ وہ اس نئی کمپنی میں اکثریتی حصص اپنے پاس رکھے گا، جس کے باعث فٹبال کی نگرانی، مقابلوں، میچ کیلنڈر، قوانین اور کھیل سے متعلق فیصلوں پر اس کا اختیار برقرار رہے گا۔ تاہم اقلیتی حصص بیرونی سرمایہ کاروں کو فروخت کیے جائیں گے، جس سے 4.2 ارب ڈالر تک سرمایہ حاصل کرنے کا ہدف ہے۔

فیفا حصص کیوں فروخت کرنا چاہتا ہے؟
ورلڈ کپ 2026 سے پہلے کئی ماہ تک یہ بحث جاری رہی کہ فیفا کی ٹکٹوں کی قیمتیں عام شائقین کو کھیل سے دور کر رہی ہیں۔ فیفا کا مؤقف تھا کہ ورلڈ کپ اس کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جس سے دنیا بھر میں نچلی سطح کے فٹبال سے لے کر بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے انتظام تک مختلف سرگرمیوں کی مالی مدد کی جاتی ہے۔

نیا منصوبہ اسی آمدن کو مزید بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

نیا تجارتی نظام کیسے کام کرے گا؟
فیفا کے مقابلوں سے پہلے ہی نشریاتی حقوق، سپانسرشپ اور دیگر تجارتی معاہدوں کے ذریعے اربوں ڈالر حاصل کیے جاتے ہیں۔ مجوزہ ایف ایف ای کمپنی روایتی ذرائع سے آگے بڑھتے ہوئے فرنچائز ماڈل کی طرز پر کام کرے گی۔

انڈین پریمیئر لیگ، آئی پی ایل ان ابتدائی مقابلوں میں شامل تھی جس نے فرنچائز ماڈل کے ذریعے نئی لیگ کی ٹیموں میں حصص فروخت کیے۔2008 میں قائم ہونے والی آئی پی ایل نے بدھ کو اعلان کیا کہ اس کی قدر رواں سال 11 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 20.6 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

آئی پی ایل کی ٹیموں میں اکثریتی سرمایہ کار بڑے حصص رکھتے ہیں اور لیگ کے انتظام پر نمایاں اثر انداز ہوتے ہیں۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے مقابلے ’دی ہنڈرڈ‘ میں ٹیموں کے اقلیتی حصص فروخت کیے گئے ہیں، جس کے باعث مقابلے کا کنٹرول اب بھی بورڈ کے پاس ہے۔

فیفا بھی ورلڈ کپ اور دیگر مقابلوں کے معاملے میں اسی طرز کا نظام تجویز کر رہا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حصص خریدنے والے سرمایہ کار فیصلوں میں کم از کم اپنی رائے شامل کرنے کی توقع ضرور رکھیں گے، اور یہی خدشات اس منصوبے پر تنقید کی بنیادی وجہ ہیں۔

فیفا کے مطابق امریکہ کی وینچر کیپیٹل کمپنی تھرائیو ایٹرنل کو مجوزہ سرمایہ کار گروپ کی قیادت کے لیے سامنے لایا گیا ہے۔ یہ کمپنی جوشوا کشنر نے قائم کی تھی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بھائی ہیں۔ ممکنہ سرمایہ کار تھرائیو ایٹرنل کے ذریعے فیفا کے مقابلوں میں سرمایہ کاری کریں گے۔

فیفا کا کہنا ہے کہ منصوبے سے حاصل ہونے والے تمام خالص فوائد دوبارہ فٹبال پر خرچ کیے جائیں گے اور کھیل کی بڑھتی ہوئی آمدن سے تمام ممالک کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے ایک بیان میں کہا کہ فٹبال دنیا کا سب سے مقبول کھیل ہے اور کھیل کے کچھ حصوں نے اس مقبولیت کو بڑی تجارتی قدر میں تبدیل کیا ہے۔

ان کے مطابق فیفا کی ذمہ داری ہے کہ فٹبال اس ترقی سے فائدہ اٹھائے اور دنیا کے ہر حصے میں پائیدار اور جامع ترقی کو فروغ دیا جائے۔

یوئیفا نے اس منصوبے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ایسی حد عبور کرتا ہے جسے فٹبال کے انتظامی اداروں کو کبھی عبور نہیں کرنا چاہیے۔ یوئیفا کا کہنا تھا کہ فٹبال کی روح اور اس کا انتظام تجارت کے لیے اثاثے نہیں ہیں، خصوصاً اس صورت میں جب یہ واضح نہ ہو کہ مالی فائدہ کس کو پہنچے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی فٹبال کا مالک نہیں اور فیفا کو اسے فروخت کرنے کا اختیار نہیں۔

برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم، جنہوں نے گزشتہ ہفتے کیئر سٹارمر کی جگہ عہدہ سنبھالا، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ فٹبال سرمایہ کاروں کا نہیں بلکہ ان لوگوں کا ہے جو ہر ہفتے اسٹیڈیم بھرتے ہیں اور میدان کے کنارے کھڑے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کوئی تجارتی مصنوعات نہیں بلکہ دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا مقابلہ ہے اور اسے فروخت کرنے کا اختیار کبھی کسی کے پاس نہیں تھا۔ ان کے مطابق ورلڈ کپ کا ایک حصہ فروخت کرنے کا مطلب کھیل کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہے۔

شمالی، وسطی امریکہ اور کیریبین فٹبال کی تنظیم کونکاکاف نے بدھ کو کہا کہ اسے فیفا کی جانب سے بیرونی سرمایہ کاروں کو حصص فروخت کرنے کی تجویز سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ کونکاکاف نے مناسب مشاورت اور طریقہ کار کی کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں