آئی پی ایل کی کاروباری قدر 20 ارب ڈالر سے تجاوز، دنیا کی امیر ترین ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگ قرار

انڈین پریمیئر لیگ، آئی پی ایل کی مجموعی کاروباری قدر میں ایک سال کے دوران 11 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اب یہ 20 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

امریکہ میں قائم سرمایہ کاری بینک ہولیہان لوکی کی جانب سے جاری کردہ ’2026 آئی پی ایل برانڈ ویلیوایشن سٹڈی‘ کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب آئی پی ایل کی کاروباری قدر میں دو ہندسوں کی شرح سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی امیر ترین ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگ نے کھیل، میڈیا، اشتہارات اور سرمایہ کاری کو یکجا کرتے ہوئے ایک مضبوط تجارتی نظام قائم کر لیا ہے۔

آئی پی ایل کی کاروباری قدر سے کیا مراد ہے؟
کاروباری قدر سے مراد لیگ سے وابستہ تمام تجارتی سرگرمیوں کی مجموعی مالی اہمیت ہے۔ اس میں نشریاتی حقوق، سپانسرشپ، ٹکٹوں کی فروخت، ٹیموں کی ملکیت، سامان کی فروخت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور دیگر کاروباری معاہدے شامل ہوتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق آئی پی ایل کی مجموعی کاروباری قدر اب 20.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ لیگ کی اپنی الگ برانڈ ویلیو 10.3 فیصد اضافے کے بعد 4.3 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

آئی پی ایل کا آغاز 2008 میں ہوا تھا اور اس وقت اس میں 10 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ اپنے قیام کے بعد سے یہ لیگ دنیا کے معروف کرکٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرتی رہی ہے۔ بھارت کے علاوہ آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک کے بڑے کھلاڑی بھی اس مقابلے میں شریک ہوتے ہیں۔

آئی پی ایل نے محدود اوورز کی کرکٹ کو ایک بڑے تفریحی اور تجارتی منصوبے میں تبدیل کیا ہے، جہاں کرکٹ کے ساتھ اشتہارات، موسیقی، ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا اور برانڈ تشہیر کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی ماڈل آئی پی ایل کو دنیا کی دیگر ٹی ٹوئنٹی لیگز سے ممتاز کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی پی ایل کی ٹیموں کی ملکیت میں حالیہ تبدیلیوں سے بھی لیگ میں بڑے سرمایہ کاروں کی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔ مارچ 2026 میں بلیک سٹون، بولٹ وینچرز، آدتیہ برلا گروپ اور ٹائمز آف انڈیا گروپ پر مشتمل ایک اتحاد نے رائل چیلنجرز بنگلورو کو ایک ارب 78 کروڑ ڈالر میں خریدنے کا اعلان کیا۔

یہ آئی پی ایل کی کسی بھی ٹیم کی خریداری کے لیے ادا کی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی رقم قرار دی گئی۔ اس کے بعد مئی میں متل خاندان اور آدر پوناوالا نے راجستھان رائلز کو ایک ارب 65 کروڑ ڈالر میں خریدنے کا اعلان کیا۔ ان سودوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار آئی پی ایل کی پرانی اور معروف ٹیموں کو طویل مدتی کاروباری اثاثے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

رائل چیلنجرز بنگلورو اس وقت آئی پی ایل کی سب سے زیادہ مالیت رکھنے والی فرنچائز قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس ٹیم کی برانڈ ویلیو 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ بنگلورو نے 2026 کا آئی پی ایل ٹائٹل بھی جیتا، جس کے بعد اس کی مقبولیت، سپانسرشپ اور تجارتی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔ ٹیم کے سب سے معروف کھلاڑیوں میں وراٹ کوہلی شامل ہیں، جن کی عالمی شہرت نے فرنچائز کی برانڈ شناخت مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ہولیہان لوکی کے مالیاتی اور ویلیوایشن شعبے کے ڈائریکٹر ہرش تالی کوٹی کے مطابق آئی پی ایل میں ٹیموں کی قدر نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے اور نجی سرمایہ کاری میں تیزی آئی ہے۔ ان کے مطابق لیگ کی آمدن کے ذرائع مسلسل بڑھ رہے ہیں اور اس کا تجارتی نظام پہلے سے زیادہ متنوع ہو چکا ہے۔

آئی پی ایل کو ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل نشریاتی حقوق سے بڑی آمدن حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی سپانسرشپ، ٹیموں کے الگ تجارتی معاہدے، ٹکٹوں کی فروخت اور برانڈڈ مصنوعات بھی اہم آمدنی کے ذرائع ہیں۔ سرمایہ کاروں کو یہ بھی اعتماد ہے کہ بھارت میں کرکٹ کی وسیع مقبولیت اور عالمی سطح پر ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی بڑھتی ہوئی مانگ آئی پی ایل کی قدر کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

آئی پی ایل کے ٹیلی ویژن اور آن لائن نشریاتی حقوق دنیا کے مہنگے ترین کھیلوں کے میڈیا معاہدوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہر سیزن میں کروڑوں ناظرین ٹیلی ویژن، موبائل فون اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر میچ دیکھتے ہیں، جس کے باعث نشریاتی ادارے اور اشتہاری کمپنیاں بڑی سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ بھارت کی وسیع آبادی اور نوجوان صارفین کی بڑی تعداد بھی آئی پی ایل کے کاروباری ماڈل کو مضبوط بناتی ہے۔

میچوں کے دوران دکھائے جانے والے اشتہارات، ٹیموں کی جرسیوں پر برانڈز کے نام اور سوشل میڈیا کیمپینز سے لیگ اور فرنچائزز کو بھاری آمدن حاصل ہوتی ہے۔

دنیا کے کئی ممالک میں ٹی ٹوئنٹی لیگز منعقد کی جاتی ہیں، جن میں آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ، پاکستان سپر لیگ، بنگلہ دیش پریمیئر لیگ اور کیریبین پریمیئر لیگ شامل ہیں۔ تاہم مالیاتی حجم، کھلاڑیوں کی فیس، نشریاتی آمدن اور عالمی ناظرین کے اعتبار سے آئی پی ایل دیگر تمام کرکٹ لیگز سے نمایاں طور پر آگے ہے۔

آئی پی ایل میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو مختصر عرصے کے لیے بڑی رقوم ادا کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے دنیا کے بیشتر معروف کرکٹرز اس لیگ میں کھیلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں