ترکیہ اور عراق نے توانائی، تجارت اور نقل و حمل کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک نئے فریم ورک پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت عراق مستقبل میں ترکیہ کو روزانہ 10 لاکھ بیرل تک خام تیل فراہم کر سکتا ہے۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اسے دونوں ممالک کے توانائی تعلقات میں ایک تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ کی سرکاری کمپنی ٹرکش پیٹرولیم، شمالی عراق کے کرکوک آئل فیلڈ میں 15 فیصد حصص حاصل کرے گی۔ کرکوک آئل فیلڈ کے انتظام میں برطانوی توانائی کمپنی بی پی بھی شریک ہے۔
ترک صدر نے انقرہ میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس فریم ورک کا اعلان کیا۔ عراقی وزیراعظم نے 28 جولائی کو ترکیہ کا دورہ کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے توانائی، سکیورٹی، تجارت، پانی کی تقسیم اور نقل و حمل سمیت مختلف امور پر بات چیت کی۔
صدر ایردوان کے مطابق عراقی وزیراعظم نے ترکیہ کو روزانہ 10 لاکھ بیرل خام تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عراق سے یہ مقدار ترکیہ منتقل ہونا شروع ہو جائے تو اس سے ملک کی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کیا جا سکے گا۔
تاہم دونوں ممالک نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ تیل کی ترسیل کب شروع ہوگی، اس کی قیمت کیا ہوگی اور معاہدہ کتنی مدت کے لیے ہوگا۔
ترکیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تیل کے معاہدے کی تجدید کے بجائے ایک وسیع اور جدید توانائی تعاون کا نظام تشکیل دیا جائے گا۔
نئے منصوبے کے تحت ترکیہ کی سرکاری تیل کمپنی ٹرکش پیٹرولیم، بی پی انرجی کمپنی آف کرکوک لمیٹڈ میں 15 فیصد حصص خریدے گی۔ اس مقصد کے لیے ایک علیحدہ شیئر ٹرانسفر معاہدہ کیا جائے گا۔
کرکوک عراق کے اہم ترین اور قدیم تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں پیدا ہونے والا تیل طویل عرصے سے پائپ لائن کے ذریعے ترکیہ کی بحیرہ روم کی بندرگاہ جیہان تک پہنچایا جاتا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ترکیہ کی سرکاری کمپنی کی کرکوک آئل فیلڈ میں شمولیت سے انقرہ کو عراق کے تیل کے شعبے میں براہ راست کردار حاصل ہو جائے گا۔
عراق اور ترکیہ کے درمیان خام تیل کی ترسیل کا پرانا معاہدہ 27 جولائی کو ختم ہو گیا تھا۔ یہ معاہدہ 1975 میں کیا گیا تھا، جس کے تحت کرکوک سے ترکیہ کی بندرگاہ جیہان تک پائپ لائن کے ذریعے عراقی تیل پہنچانے کا نظام قائم کیا گیا تھا۔ اس پائپ لائن کو کرکوک جیہان آئل پائپ لائن کہا جاتا ہے۔
ترکیہ نے پرانے معاہدے کی صرف تجدید کرنے کے بجائے عراق کے ساتھ ایک نیا اور زیادہ وسیع توانائی تعاون کا معاہدہ بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس نئے فریم ورک میں صرف تیل کی ترسیل ہی نہیں بلکہ تیل کے ذخائر میں سرمایہ کاری، پائپ لائنوں کی بحالی، توانائی کی سلامتی اور علاقائی تجارتی راستوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث ترکیہ کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ عراق کا زیادہ تر تیل خلیج کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کسی تنازع یا بندش کی صورت میں عراقی تیل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال میں عراق ترکیہ کے راستے تیل کی برآمد کو ایک متبادل اور نسبتاً محفوظ راستے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ترکیہ اور عراق کے درمیان توانائی تعاون کو عراق کے ترقیاتی سڑک منصوبے سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد عراق کی جنوبی بندرگاہوں کو سڑک اور ریلوے کے ذریعے ترکیہ اور بعد میں یورپ سے منسلک کرنا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں خلیجی ممالک سے آنے والا سامان عراق اور ترکیہ کے راستے یورپ تک پہنچایا جا سکے گا۔
ترکیہ کے لیے یہ منصوبہ تجارت اور توانائی کے ایک اہم علاقائی مرکز بننے کا موقع فراہم کرتا ہے، جبکہ عراق کو تیل کی برآمد کے لیے خلیج کے علاوہ ایک متبادل راستہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ترکیہ اور عراق کے درمیان تعلقات میں سب سے پیچیدہ معاملہ سکیورٹی کا ہے۔ ترکیہ نے شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی، پی کے کے، کے خلاف فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں۔ ترکیہ، امریکہ اور یورپی یونین ‘پی کے کے’ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔
عراق میں ترکیہ کی فوجی موجودگی پر ماضی میں بغداد اور انقرہ کے درمیان اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ پی کے کے نے 2025 کے وسط میں ترکیہ کے ساتھ امن عمل کے تحت ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تھا، تاہم انقرہ اب بھی شمالی عراق کے پہاڑی علاقوں میں اس تنظیم کی موجودگی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
عراقی وزیراعظم کے دورے کے دوران پانی کی تقسیم کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ دجلہ اور فرات سمیت عراق کے کئی اہم دریاؤں کا پانی ترکیہ سے آتا ہے۔ عراق طویل عرصے سے شکایت کرتا رہا ہے کہ ترکیہ میں ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے زیادہ استعمال سے عراق میں پانی کی قلت بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب ترکیہ کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ صرف ڈیم نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی، ناقص انتظام اور فرسودہ آبپاشی نظام بھی ہیں۔ دونوں ممالک نے پانی کے بہتر انتظام اور اس معاملے پر مستقل رابطے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔