“اپنا ادارہ گرانے نہیں دیں گے”، اترپردیش میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدام کے فیصلے کے بعد طلبہ غیریقینی صورتحال سے دو چار

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ ان دنوں اپنے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے شدید خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں۔

رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ ان عمارتوں کی تعمیر سے قبل منظور شدہ نقشے حاصل نہیں کیے گئے تھے۔

حکم سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ نے دھرنا شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ انتظامیہ انہدام کا فیصلہ واپس لے۔ بعد ازاں مراد آباد کے ڈویژنل کمشنر کی عدالت نے حتمی سماعت تک انہدامی کارروائی پر عارضی پابندی عائد کر دی، تاہم طلبہ کی تشویش اب بھی ختم نہیں ہوئی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ادارے میں تقریباً تین ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ تقریباً دو سو تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین یہاں کام کر رہے ہیں۔ اس طرح معاملہ صرف طلبہ کی تعلیم کا نہیں بلکہ سیکڑوں افراد کے روزگار کا بھی ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ادارہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سمیت مختلف ضابطہ ساز اداروں سے تسلیم شدہ ہے اور یہاں قانون، نرسنگ، فارمیسی اور پیرا میڈیکل سمیت متعدد پیشہ ورانہ کورسز پڑھائے جا رہے ہیں۔

بعض اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر تعمیرات میں کوئی قانونی خلاف ورزی ہوئی ہے تو عمارتیں گرانے کے بجائے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ طلبہ بھی کہتے ہیں کہ وہ چندہ جمع کرکے جرمانہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن یونیورسٹی کو منہدم نہیں ہونے دیں گے۔

اب اس معاملے کی اگلی سماعت 28 اگست کو متوقع ہے۔ فی الحال انہدامی کارروائی رک چکی ہے، لیکن ہزاروں طلبہ، ملازمین اور ان کے خاندانوں کی نظریں عدالت اور انتظامیہ کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں