اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس، تفتیش میں مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ثاقب چدھڑ قصور وار قرار

این سی سی آئی اے لاہور کے ایس ایچ او نجم باجوہ نے منگل کے روز لاہور کی سیشن عدالت کو بتایا کہ تفتیش کے دوران مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کو اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے الزامات میں قصور وار پایا گیا ہے۔

جج نصرت علی صدیقی کی عدالت میں ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ دونوں ملزمان اپنی سابقہ عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر عدالت میں پیش ہوئے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور انہیں مومنہ اقبال کی جانب سے لگائے گئے الزامات میں قصور وار پایا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ثاقب چدھڑ کی اہلیہ نے 2 روز قبل اپنا موبائل فون این سی سی آئی اے کے حوالے کیا، جسے فرانزک معائنے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

اداکارہ مومنہ اقبال کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی جائیں۔ ان کے مطابق ملزمان کی رہائی ان کی مؤکلہ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی عبوری ضمانت میں 3 ستمبر تک توسیع کر دی۔ جج نے دونوں فریقین کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر حتمی دلائل پیش کیے جائیں۔
ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ نے اس کیس میں 5 جون کو عبوری ضمانت حاصل کی تھی، جس کے بعد عدالت ان کی ضمانت میں کئی بار توسیع کر چکی ہے۔

یہ کیس مئی میں اس وقت سامنے آیا جب اداکارہ مومنہ اقبال کی سوشل میڈیا اپیل وائرل ہوئی۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو ٹیگ کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ انہیں طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، سائبر بلیئنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

مومنہ اقبال نے اس وقت الزام عائد کیا تھا کہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والا ایک رکن صوبائی اسمبلی انہیں دھمکیاں دے رہا ہے، تاہم انہوں نے اس وقت نام ظاہر نہیں کیا تھا۔

بعد میں این سی سی آئی اے نے مومنہ اقبال کی شکایت پر ثاقب چدھڑ کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ مومنہ اقبال نے اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ ثاقب چدھڑ نے انہیں اور ان کے منگیتر کو دھمکی آمیز کالز کیں، اور شادی کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد انہیں ہراساں اور بلیک میل کرنا شروع کیا۔

ان کے مطابق ثاقب چدھڑ پہلے ہی 2 خواتین سے شادی شدہ تھے، جس کے بعد انہوں نے ان کی شادی کی پیشکش مسترد کی۔

درخواست میں واٹس ایپ پیغامات، ویڈیو کالز اور مومنہ اقبال کی بہن کے موبائل فون پر بھیجے گئے مبینہ دھمکی آمیز پیغامات کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

این سی سی آئی اے نے 4 جون کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ ، پیکاکی دفعات 3، 4، 21 اور 24 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 506، 201، 34 اور 109 بھی شامل کی گئی تھیں۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھی اس معاملے پر ایک بیان میں کہا تھا کہ کسی خاتون کو سیاسی دباؤ، اثر و رسوخ یا ذاتی مواد جاری کرنے کی دھمکی کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

ثاقب چدھڑ کی جانب سے الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں