افغانستان کے متبادل تجارتی راستے پر ازبکستان اور پاکستان کی پیش رفت، نئی راہداری جلد فعال ہوگی

ازبکستان نے افغانستان کے راستے پاکستان تک تجارتی راہداری کے منصوبے پر کام جاری رکھتے ہوئے چین کے ذریعے ایک متبادل تجارتی راستہ اختیار کرنے کی بھی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

گزشتہ ایک سال کے دوران تاشقند نے افغانستان کے ساتھ اقتصادی روابط میں اضافہ کیا ہے اور آئندہ چند برسوں میں دوطرفہ تجارت کو تقریباً تین گنا بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت افغان حکام کے ساتھ مل کر ٹرانس افغان ریلوے منصوبے پر سرگرمی سے کام کر رہی ہے، جس کے ذریعے ازبک مصنوعات کو پاکستانی بندرگاہوں تک پہنچایا جا سکے گا۔

تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ازبکستان اور پاکستان نے ایسے تجارتی راستوں کو وسعت دینے پر ابتدائی اتفاق کیا ہے جو افغانستان کے بجائے چین سے گزریں گے۔

وسطی ایشیا سے پاکستان تک سامان پہنچانے کے لیے افغانستان کا راستہ نسبتاً مختصر اور مؤثر سمجھا جاتا ہے، لیکن پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث اس منصوبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے ٹرکوں کے ذریعے ہونے والی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ازبکستان اور پاکستان جلد ایک پروٹوکول پر دستخط کر سکتے ہیں، جس کا مقصد چین کے راستے دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ سہولتوں کو بڑھانا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق اس اقدام سے علاقائی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باوجود سامان کی بلا تعطل نقل و حرکت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

ازبکستان، کرغزستان اور چین ایک نئی ریلوے لائن بھی تعمیر کر رہے ہیں، جو مستقبل میں چین کے ریلوے نظام کے ذریعے پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم اس منصوبے کی تکمیل میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے فوری طور پر چین کے راستے ٹرکوں کے ذریعے تجارت بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

چین کے راستے پاکستان تک رسائی میں صرف ازبکستان ہی دلچسپی نہیں رکھتا۔ رواں سال کرغزستان نے بھی چین کے ذریعے پاکستان تک زمینی تجارتی راستے کا کامیاب تجربہ کیا تھا، جبکہ جولائی کے آغاز میں پاکستان اور کرغزستان نے اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں