پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ جاری

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ جاری ہے۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

انتخابی عمل کو آسان بنانے کے لیے میرپور ڈویژن کے تینوں اضلاع، بھمبر، میرپور اور کوٹلی میں پیر کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق آج کے انتخاب میں مجموعی طور پر 288 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

ووٹنگ کے لیے 2,316 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 1,241 کو انتہائی حساس اور 724 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ انتخابات کی نگرانی کے لیے ڈویژن بھر میں 13 زونز اور 205 سیکٹرز بنائے گئے ہیں۔

سکیورٹی پلان کے تحت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 18,560 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی 3 سطحوں پر رکھی گئی ہے۔ پہلی سطح پر پولیس، دوسری سطح پر پاکستان رینجرز پنجاب، پاکستان رینجرز سندھ اور فیڈرل کانسٹیبلری، جبکہ تیسری سطح پر پاک فوج تعینات ہے۔

رپورٹس کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئیک رسپانس فورس کی ٹیمیں اسٹینڈ بائی پر ہیں۔

کوٹلی کے بعض علاقوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی اور جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں ہیں۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر بعض پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

میرپور کے کمشنر راجہ طاہر ممتاز خان نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا اور کہا کہ ڈویژن بھر میں انتخابی عمل سکیورٹی انتظامات کے ساتھ جاری ہے۔

آزاد کشمیر کے چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے بھمبر کی تحصیل سماہنی میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

آزاد کشمیر انتخابات اس بار سکیورٹی خدشات کے باعث 3 مراحل میں ہو رہے ہیں۔

دوسرا مرحلہ 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر ہوگا، جبکہ تیسرا مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر ہوگا۔

انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان لفظی جنگ بھی شدت اختیار کر گئی تھی۔ یپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف دونوں نے انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ نواز شریف نے میرپور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کو کشمور اور میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھا جائے۔ بلاول بھٹو نے اس کے جواب میں کہا کہ چاہے کشمیر ہو یا کشمور، میرپور ہو یا میرپور خاص، لوگ اپنے حقوق پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔

آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ مغل نے 14 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پولنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے میرپور ڈویژن سے مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم پولیس حکام کے مطابق اتوار کی شام تک کسی بھی مقام سے راولاکوٹ کی طرف کسی ریلی میں شرکت کے لیے لوگ نہیں نکلے۔

اپنا تبصرہ لکھیں