‘جنسی بدسلوکی’ کے الزامات پر آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان عہدے سے ہٹا دیے گئے

عالمی فوجداری عدالت، آئی سی سی کے رکن ممالک نے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو ‘جنسی بدسلوکی’ کے الزامات کے بعد عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

کریم خان ایک برطانوی بیرسٹر ہیں اور وہ 2021 سے آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

عدالت کی نگران باڈی، اسمبلی آف اسٹیٹس پارٹیز نے جمعے کو ووٹنگ کے بعد انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق رکن ممالک کی اکثریت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کریم خان “سنگین بدانتظامی” اور “فرائض کی سنگین خلاف ورزی” کے مرتکب ہوئے۔

کریم خان ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ان کی قانونی ٹیم کے سربراہ طیب علی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ شواہد کے بجائے سیاسی دباؤ کے تحت کیا گیا۔ ان کے مطابق کریم خان کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا منصفانہ موقع نہیں دیا گیا، جبکہ آزاد عدالتی جائزے میں یہ بات ثابت نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے متعلقہ قانونی معیار کے تحت بدسلوکی یا فرائض کی خلاف ورزی کی۔

طیب علی نے کہا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب کریم خان اور آئی سی سی کے کئی عہدیدار امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکا نے یہ پابندیاں اس وقت عائد کی تھیں جب کریم خان نے 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست دی تھی۔

آئی سی سی کے مطابق کریم خان کی جگہ فی الحال ڈپٹی پراسیکیوٹرز نزہت شمیم خان اور مامے مندیاے نیانگ دفتر کی سربراہی کریں گے۔

کریم خان کے خلاف یہ الزامات تقریباً 2 سال پہلے سامنے آئے تھے۔ ان پر ایک خاتون معاون کے ساتھ ‘جنسی بدسلوکی’ کا الزام لگایا گیا، جس کی شناخت صرف “سارہ” کے نام سے ظاہر کی گئی ہے۔

سی این این کو دیے گئے ایک حالیہ بیان میں خاتون نے دعویٰ کیا کہ کریم خان کا رویہ وقت کے ساتھ بڑھتا گیا اور انہوں نے نازیبا جسمانی حرکتیں کیں۔

کریم خان نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ جس عمل کے ذریعے انہیں ہٹایا گیا، وہ شفاف، منصفانہ اور شواہد کے مطابق نہیں تھا۔

کریم خان کئی اہم عالمی تنازعات سے متعلق تحقیقات کی قیادت کر رہے تھے، جن میں غزہ، یوکرین اور دیگر مقدمات شامل تھے۔ تاہم ان کی سب سے متنازع کارروائی 2024 میں سامنے آئی، جب انہوں نے غزہ جنگ سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست دی۔

اس اقدام کے بعد اسرائیل اور امریکا کی جانب سے آئی سی سی پر دباؤ بڑھ گیا۔ کریم خان کے وکلا اور بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کو اس بڑے سیاسی تناظر سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے بعض اداروں کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کو اپنے اندر جنسی ہراسانی اور اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق الزامات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق عدالت کی ساکھ کے لیے ضروری ہے کہ متاثرہ افراد کو محفوظ ماحول، مؤثر شکایتی نظام اور قابل اعتماد احتساب فراہم کیا جائے۔

الجزیرہ کے مطابق کریم خان کو عہدے سے ہٹانے کا نیتن یاہو اور گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری پر فوری اثر نہیں پڑے گا۔ رپورٹس کے مطابق وہ وارنٹ صرف آئی سی سی کے ججز واپس لے سکتے ہیں، پراسیکیوٹر کے عہدے میں تبدیلی سے وہ خود بخود ختم نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب ہیگ میں فلسطینی مشن نے کہا ہے کہ کریم خان کی برطرفی کو فلسطین سے متعلق آزاد تحقیقات سے جوڑنے کی کوششیں سیاسی اور غیر سنجیدہ ہیں۔

آئی سی سی نے کہا ہے کہ پراسیکیوٹر کا دفتر عدالت کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام معاملات میں آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات جاری رکھے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں