ممبئی کے کارٹر روڈ پر واقع آشیرواد صرف ایک بنگلہ نہیں تھا، بلکہ ہندی سنیما کے پہلے سپر اسٹار راجیش کھنہ کی شہرت، عروج، تنہائی اور زوال کی ایک خاموش علامت بن گیا تھا۔
راجیش کھنہ کی خواہش تھی کہ ان کی موت کے بعد اس گھر کو میوزیم میں تبدیل کیا جائے، مگر بعد میں ان کے خاندان نے اسے تقریباً 90 کروڑ روپے میں فروخت کر دیا۔ آج یہ بنگلہ اپنی اصل شکل میں موجود نہیں، مگر اس سے جڑی کہانیاں اب بھی فلمی دنیا میں یاد کی جاتی ہیں۔
اس گھر کی کہانی راجیش کھنہ سے پہلے ایک اور بڑے اداکار راجندر کمار سے شروع ہوتی ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق 1950 کی دہائی کے آخر میں راجندر کمار نے کارٹر روڈ پر ایک پرانا اور خستہ حال بنگلہ دیکھا۔ اس وقت کوئی اسے خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا، مگر راجندر کمار نے اسے 65 ہزار روپے میں خریدنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اس گھر کا نام اپنی بیٹی ڈمپل کے نام پر “ڈمپل” رکھا۔
یہ گھر راجندر کمار کے لیے خوش قسمت ثابت ہوا۔ ان کی فلمیں مسلسل کامیاب ہوئیں اور انہیں “جوبلی کمار” کہا جانے لگا، کیونکہ ان کی کئی فلمیں باکس آفس پر سلور جوبلی کرتی تھیں۔
بعد میں راجندر کمار نے ایک اور گھر خریدا اور پرانا کارٹر روڈ والا بنگلہ فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسی دوران راجیش کھنہ اپنے فلمی کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ راجندر کمار اپنا گھر بیچ رہے ہیں تو انہوں نے اسے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ کہا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ سمجھتے تھے کہ یہ گھر راجندر کمار کے لیے خوش قسمتی لایا تھا، اس لیے شاید اس کی برکت ان کے کیریئر پر بھی اثر ڈالے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق راجیش کھنہ نے یہ بنگلہ تقریباً 3.5 لاکھ روپے میں خریدا۔
راجندر کمار نے صرف ایک شرط رکھی کہ گھر کا نام “ڈمپل” برقرار نہ رکھا جائے، کیونکہ یہ ان کی بیٹی کا نام تھا اور وہ اپنے نئے گھر کا نام بھی ڈمپل رکھ چکے تھے۔
راجیش کھنہ نے اس گھر کا نام “آشیرواد” رکھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چند سال بعد راجیش کھنہ نے ایک اداکارہ سے شادی کی، جن کا نام بھی ڈمپل تھا، یعنی ڈمپل کپاڈیہ۔
آشیرواد منتقل ہونے کے بعد راجیش کھنہ کا کیریئر غیر معمولی رفتار سے اوپر گیا۔ وہ ہندی سنیما کے پہلے سپر اسٹار بنے۔ ان کی مسلسل ہٹ فلموں، مداحوں کی دیوانگی اور عوامی مقبولیت نے انہیں ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جو اس سے پہلے کسی اداکار کو نہیں ملا تھا۔
ہزاروں مداح آشیرواد کے باہر جمع ہوتے، ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے، اور ان کی گاڑی تک کو چومتے تھے۔
مصنف گوتم چنتامنی نے اپنی کتاب “ڈارک اسٹار” میں لکھا کہ آشیرواد میں آنے کے بعد راجیش کھنہ کے گرد بادشاہت کا ایک ماحول مکمل ہو گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق فلم ساز اور لوگ ان کے گھر کے باہر انتظار کرتے، جبکہ راجیش کھنہ اپنے مخصوص انداز میں اندر سے باہر آتے اور ان سے ملتے، لیکن 1973 کے بعد حالات بدلنے لگے۔
رپورٹ کے مطابق امیتابھ بچن کی فلم “زنجیر” نے ہندی سنیما میں “اینگری ینگ مین” کا دور شروع کیا، اور آہستہ آہستہ راجیش کھنہ کا رومانوی سپر اسٹار والا دور پیچھے رہنے لگا۔ بعد کے برسوں میں راجیش کھنہ نے خود کو بدلنے کی کوشش کی، مگر وہ پہلے جیسی کامیابی دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔ اسی دوران ان کے مالی مسائل کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
رپورٹس کے مطابق انکم ٹیکس کے واجبات کے باعث یہ افواہیں پھیلیں کہ راجیش کھنہ کو آشیرواد فروخت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی دور میں سلمان خان کے بھائی سہیل خان نے مبینہ طور پر آشیرواد خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ رپورٹ کے مطابق سلمان خان نے مصنف رومی جعفری سے کہا کہ وہ راجیش کھنہ تک یہ پیشکش پہنچائیں۔
کہا جاتا ہے کہ خان فیملی نے انکم ٹیکس واجبات ادا کرنے کی پیشکش بھی کی، جبکہ سلمان خان نے یہ بھی کہا کہ اگر معاملہ طے ہو جائے تو وہ راجیش کھنہ کی کسی فلم میں معاوضہ لیے بغیر کام کر سکتے ہیں، مگر یہ پیشکش راجیش کھنہ کو بہت ناگوار گزری۔
رومی جعفری کے مطابق راجیش کھنہ نے ناراضی سے کہا کہ وہ انہیں داماد کی طرح سمجھتے ہیں، مگر وہ ان کا گھر بکوانا چاہتے ہیں اور انہیں سڑک پر لانا چاہتے ہیں۔
راجیش کھنہ کے لیے آشیرواد صرف جائیداد نہیں تھا۔ یہ ان کے عروج، ان کی شناخت اور ان کی زندگی کے سب سے بڑے دور کی علامت تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے بعد یہ گھر ان کی یادوں کا میوزیم بنے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے انتقال کے بعد آشیرواد فروخت ہوا اور بعد میں اسے گرا دیا گیا۔
یوں وہ گھر، جس نے پہلے راجندر کمار اور پھر راجیش کھنہ کے کیریئر کو خوش قسمتی سے جوڑا، آج صرف تصاویر، کتابوں اور فلمی قصوں میں باقی ہے۔