بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے اپنی 5 سالہ مدت مکمل ہونے سے تقریباً 2 سال قبل استعفیٰ دے دیا ہے۔ 76 سالہ شہاب الدین نے جمعہ کو پارلیمنٹ کے اسپیکر حافظ الدین احمد کو اپنا استعفیٰ بھجوایا، جس میں انہوں نے صحت کی خرابی کو عہدہ چھوڑنے کی وجہ بتایا۔
صدر کے دفتر کے مطابق حالیہ طبی معائنے میں محمد شہاب الدین میں آٹونومک نیوروپیتھی کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے باعث انہیں کبھی کبھار عارضی طور پر ہوش کھونے کی کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔
شہاب الدین نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ سخت بیمار ہیں اور اسی وجہ سے آئینی منصب کی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔ بنگلہ دیشی آئین کے مطابق صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط جمع کرانے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
بیان کے مطابق نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر صدر کے فرائض انجام دیں گے۔ آئین کے تحت بنگلہ دیش میں نئے صدر کا انتخاب 90 دن کے اندر ہونا ضروری ہے۔
محمد شہاب الدین اپریل 2023 سے بنگلہ دیش کے صدر تھے، اور ان کی مدت 2028 میں مکمل ہونا تھی۔
۔انہوں نے ڈیلی اسٹار سے گفتگو میں کہا کہ وہ مختلف طبی مسائل کا شکار ہیں اور اس وقت مزید کچھ کہنا نہیں چاہتے۔
شہاب الدین کو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور میں صدر منتخب کیا گیا تھا۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر رسمی نوعیت کا ہے، مگر موجودہ سیاسی حالات میں اس استعفے کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق شہاب الدین کے عہدہ چھوڑنے سے شیخ حسینہ کے قریبی سمجھے جانے والے ایک اور اہم آئینی عہدیدار اقتدار کے مرکز سے باہر ہو گئے ہیں۔