امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری تعاون کے معاہدے نے مشرق وسطیٰ میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کو پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں مدد دے گا، مگر ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس سے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
معاہدے کے تحت امریکا سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرے گا، تاہم اس کی مکمل تفصیلات ابھی عوام کے سامنے نہیں آئیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ منصوبہ سول مقاصد، یعنی بجلی پیدا کرنے اور توانائی کے شعبے میں استعمال کے لیے ہے۔ لیکن اصل سوال یورینیم افزودگی کا ہے۔
یورینیم افزودگی سول جوہری توانائی کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے، مگر اگر یہی عمل زیادہ سطح تک پہنچ جائے تو اسے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ اگر سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ملی تو ایران، ترکیہ، مصر اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی ایسے پروگرامز کی طرف بڑھ سکتی ہیں۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب جوہری ہتھیار نہیں چاہتا، لیکن اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو سعودی عرب بھی ایسا کر سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ معاہدہ جوہری پھیلاؤ کا سبب نہیں بنے گا، کیونکہ امریکی کمپنیاں منصوبے کی نگرانی کریں گی۔ رپورٹس کے مطابق امریکی کمپنی ویسٹنگ ہاؤس اس منصوبے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ صرف امریکی کمپنیوں کی موجودگی کافی ضمانت نہیں، کیونکہ ایک بار ٹیکنالوجی اور تربیت منتقل ہو جائے تو مستقبل میں اس کا راستہ بدلنا مشکل ہو سکتا ہے۔ کچھ امریکی رپورٹس میں ایک ایسے “بلیک باکس” افزودگی نظام کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو ہوگا تو سعودی عرب میں، مگر اسے امریکی کمپنیاں چلائیں گی۔
ماہرین کے مطابق یہ انتظام اپنی نوعیت کا غیر معمولی ہوگا، کیونکہ ایسے نظام میں یہ سوال باقی رہتا ہے کہ سعودی ماہرین کو ٹیکنالوجی تک کس حد تک رسائی ملے گی۔
اسرائیل میں بھی اس معاہدے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لیبرمین نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اس معاہدے کی بھرپور مخالفت کرنی چاہیے، کیونکہ ان کے مطابق سعودی عرب کا سول جوہری پروگرام مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی طرف جا سکتا ہے۔
اسرائیل خود خطے کا وہ ملک سمجھا جاتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، اگرچہ وہ سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کرتا۔
اس معاہدے کا دوسرا بڑا خدشہ جوہری تنصیبات کی سلامتی سے متعلق ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، میزائل حملوں اور ڈرون حملوں کی زد میں ہے۔
ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کے بیرونی حصوں کو ماضی میں حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متحدہ عرب امارات کے براکہ جوہری پلانٹ کے قریب بھی ڈرون حملے کی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔ اگرچہ ان واقعات میں ری ایکٹرز کو براہ راست نقصان نہیں پہنچا، مگر ماہرین کہتے ہیں کہ خطے میں مزید جوہری تنصیبات بننے سے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
کسی ری ایکٹر کے بنیادی حصے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں تابکار مواد خارج ہو سکتا ہے، جس کے اثرات کئی کلومیٹر تک تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
فوکوشیما اور چرنوبل جیسے حادثات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جوہری توانائی صرف توانائی کا معاملہ نہیں بلکہ طویل المدتی سلامتی کا سوال بھی ہے۔
یہ معاہدہ اب امریکی کانگریس کے جائزے کے لیے جائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدہ صرف غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، اس میں یورینیم افزودگی شامل نہیں ہوگی اور اس کی منظوری سعودی عرب کے ابراہم اکارڈز میں شامل ہونے سے مشروط ہوگی۔
یہ شرط معاہدے کو صرف توانائی کا منصوبہ نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا حصہ بنا دیتی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن سعودی عرب کو وہ رعایتیں دیتا ہے جو پہلے متحدہ عرب امارات جیسے اتحادیوں کو نہیں دی گئیں، تو امریکا کی جوہری عدم پھیلاؤ پالیسی کمزور ہو سکتی ہے۔
متحدہ عرب امارات کا سول جوہری پروگرام عام طور پر “گولڈ اسٹینڈرڈ” سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس نے یورینیم افزودگی اور سپنٹ فیول ری پروسیسنگ سے دستبرداری قبول کی تھی۔
ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب کو اس سے زیادہ گنجائش دی گئی تو خطے کے دوسرے ممالک بھی وہی حق مانگ سکتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کرے گا، امریکی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا کرے گا اور عالمی عدم پھیلاؤ کے معیار کو تقویت دے گا۔ لیکن مخالفین کے نزدیک اصل خطرہ یہ ہے کہ سول جوہری تعاون اور فوجی جوہری صلاحیت کے درمیان فاصلہ وقت کے ساتھ کم ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کو مشرق وسطیٰ کے طاقت کے توازن، ایران سعودی رقابت، اسرائیلی سلامتی اور امریکی اثر و رسوخ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اس میں سخت نگرانی، شفاف شرائط اور افزودگی پر واضح پابندی شامل نہ ہوئی تو یہ معاہدہ خطے میں ایک نئی جوہری دوڑ کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔