اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملے میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے دوبارہ اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کئی ماہ کی فضائی کارروائیوں کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کس حد تک برقرار ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود تہران خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع نے تاحال حملے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ امریکا کے لیے ایک مشکل حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
دفاعی ماہر جینیفر کیونا نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایران کی عسکری صلاحیت اب بھی قابل ذکر ہے اور وہ توقع سے زیادہ تیزی سے خود کو دوبارہ منظم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حملے وقت کے ساتھ زیادہ درست ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ تہران جنگ کے دوران سیکھنے اور اپنی حکمت عملی بدلنے کی صلاحیت بھی دکھا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ اور خلیج میں امریکی اڈوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایران کے میزائل اور ڈرون نظام کی رینج میں آتے ہیں۔ خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی مختلف اڈوں پر موجود ہیں، جن میں سے کئی تنصیبات مستقل یا نیم مستقل ڈھانچوں پر مشتمل ہیں۔ یہ اڈے عموماً راکٹوں، مارٹر گولوں اور چھوٹے حملوں سے بچاؤ کے لیے تیار کیے گئے تھے، مگر بڑے وار ہیڈز والے درست نشانہ لگانے والے بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں ان کا دفاع محدود ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زیادہ تر میزائل یا ڈرون راستے میں تباہ بھی کر دیے جائیں، تب بھی چند حملوں کا دفاعی حصار عبور کر جانا جانی اور عملی نقصان کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
ایران نے اس جنگ میں میزائل، کروز میزائل اور مسلح ڈرونز کا استعمال کیا ہے، جو مختلف رفتار اور مختلف راستوں سے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہی تنوع امریکی ایئر ڈیفنس نظام، بشمول پیٹریاٹ اور تھاڈ، پر دباؤ بڑھاتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی فوجی ہلاکتوں کی سرکاری تعداد 18 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ تقریباً 500 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جولائی میں جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد امریکی فوجی عمارتوں، ساز و سامان اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کو روایتی جنگ میں شکست دینے کے بجائے وقفے وقفے سے امریکی دفاعی نظام کو عبور کر کے واشنگٹن پر انسانی، عسکری اور سیاسی دباؤ بڑھا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم لاگت والے ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال امریکا کے لیے مہنگے دفاعی نظام چلانے کا چیلنج بن جاتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ میں کہا کہ یہ جنگ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور دفاعی صنعتی ڈھانچے کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکا نے کبھی یہ توقع نہیں کی تھی کہ ایران کے پاس حملہ کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
ماہرین کے مطابق امریکی قیادت نے بعض اوقات ایران کی صلاحیتوں کو ضرورت سے زیادہ کمزور دکھایا، جبکہ حالیہ حملے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ تہران اب بھی خطے میں امریکی اہداف کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے امریکا میں سیاسی دباؤ بھی بڑھایا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کے بعد ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دی، جبکہ امریکی قانون سازوں نے حکومت سے جنگی حکمت عملی اور فوجیوں کی حفاظت سے متعلق مزید وضاحت طلب کی ہے۔