سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں، یہ اب بھی مکمل طور پر نافذ ہے، پاکستان

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کے بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں اِسے “معطل” رکھنے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔

سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح مباحثے میں بھارت کے نمائندے کے بیان پر جواب دیتے ہوئے پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری انصر شاہ نے کہا کہ نئی دہلی حقائق کو مسخ کرنے اور صورتحال کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انصر شاہ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ اب بھی مؤثر، پابند اور مکمل طور پر نافذ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگست 2025 میں ثالثی عدالت نے بھی اپنے فیصلے میں معاہدے کی قانونی حیثیت، اس کے نفاذ اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کی توثیق کی تھی۔

پاکستانی نمائندے نے الزام عائد کیا کہ بھارت مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا قانونی معاہدوں اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

انصر شاہ نے دہشت گردی سے متعلق بھارت کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی اور مالی معاونت کو چھپانے کے لیے ایسے بیانات دیتا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے گروہوں نے پاکستان میں ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خود کو دہشت گردی کا شکار ظاہر کرتا ہے، مگر وہ خود دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔

انصر شاہ نے جموں و کشمیر کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے تحت ایک حل طلب تنازع ہے۔

پاکستانی نمائندے کے مطابق جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا اور نہ اب ہے، جبکہ کسی بھی یکطرفہ اقدام سے اس علاقے کی تاریخی، قانونی اور متنازع حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

پاکستان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سندھ طاس معاہدے، کشمیر اور دہشت گردی کے الزامات پر اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان سفارتی کشیدگی دوبارہ نمایاں ہو رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں