اسلام آباد میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ نے دوطرفہ تجارت، کاروباری روابط اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے جاری تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ باہمی گفتگو کو صرف اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے واضح شعبوں اور مقررہ مدت کے ساتھ عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے گا۔
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان ٹیرف نظام میں بہتری، سرکاری امور کی ڈیجیٹائزیشن اور کاروبار سے متعلق قواعد کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق صنعتی خام مال کی مناسب قیمت اور ٹیرف میں تسلسل سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے ساتھ برآمدی شعبے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ افریقا اور وسطی ایشیا پاکستانی مصنوعات کے لیے اہم اور تیزی سے ابھرتی ہوئی منڈیاں ہیں۔ انہوں نے مصنوعات کے معیار، سرٹیفکیشن، ماحولیاتی تقاضوں اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے پاکستان کی اقتصادی اور کاروباری اصلاحات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعاون کو واضح شعبوں اور طے شدہ مدت کے تحت آگے بڑھانے کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ گفتگو کے عملی نتائج سامنے آ سکیں۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دو مشترکہ ورکنگ گروپس پہلے ہی کام کر رہے ہیں، جبکہ باہمی تعاون کو مزید شعبوں تک پھیلانے کے لیے نئے گروپس قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔