افغانستان کے صوبہ نورستان میں سیلاب متاثرین کو خوراک اور صاف پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے، عالمی ادارہ برائے ہجرت

عالمی ادارہ برائے ہجرت، آئی او ایم نے کہا ہے کہ افغانستان کے صوبہ نورستان میں اچانک سیلاب کے بعد متاثرہ خاندانوں کو خوراک، پناہ گاہ اور صاف پینے کے پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

ادارے کے مطابق سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جبکہ کئی خاندان مناسب چھت، محفوظ پانی اور خوراک کے بغیر رہ گئے ہیں۔ آئی او ایم کا کہنا ہے کہ اس کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں فوری جائزہ لے رہی ہیں، تاکہ نقصان کے حجم اور مقامی آبادی کی فوری ضروریات کا تعین کیا جا سکے۔

ادارے کے مطابق متاثرہ خاندانوں تک ہنگامی امداد تیزی سے پہنچانے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق نورستان کے مختلف حصوں میں سیلاب سے 23 افراد ہلاک، متعدد زخمی اور کئی گھر اور اہم انفراسٹرکچر تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق 100 سے زائد افراد لاپتہ بھی ہیں، جن کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

نورستان کے پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب نے صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جبکہ کئی متاثرہ مقامات تک رسائی پہلے ہی محدود ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی سے جڑی قدرتی آفات کا زیادہ شدت کے ساتھ سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بدلتے موسمی رجحانات، شدید بارشیں اور ایل نینو جیسے عوامل بعض علاقوں میں اچانک سیلاب کے خطرات بڑھا سکتے ہیں۔

ایل نینو بحرالکاہل کے خط استوا کے قریب سطحی پانی کے غیر معمولی گرم ہونے سے پیدا ہونے والا موسمی رجحان ہے، جو دنیا کے مختلف حصوں میں بارشوں کے انداز کو متاثر کر سکتا ہے۔

افغانستان کو موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں انتہائی کمزور ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں سیلاب، خشک سالی اور دیگر شدید موسمی واقعات پہلے ہی انسانی بحران کو گہرا کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں