نریندر مودی کا پرچے لیک کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا اعلان، مظاہرین کا وزیر تعلیم کے استعفے پر اصرار

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کو فوری سزا دینے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے تحت نوجوان اور طلبہ کئی روز سے احتجاج کر رہے ہیں اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مودی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ نوجوانوں کی فلاح اور مستقبل سے بڑھ کر کچھ اہم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پرچے لیک کرنے والوں کو فوری اور سخت سزا دینے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم کے مطابق جو لوگ نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں نہیں بخشا جائے گا۔ تاہم کاکروچ جنتا پارٹی نے مودی کے اعلان کو ناکافی قرار دیا ہے۔

تحریک کے ترجمان آشوتوش رنکا نے کہا کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کا اعلان اصل مسئلے کا حل نہیں بلکہ توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق پرچے اس لیے لیک نہیں ہو رہے کہ بھارت میں فاسٹ ٹریک عدالتیں نہیں ہیں، بلکہ اس لیے ہو رہے ہیں کہ تعلیمی نظام میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کا مطالبہ ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر استعفیٰ دیں، پرامن مظاہرین کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں اور امتحانات منسوخ ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو مالی مدد دی جائے۔

مظاہرین 3 روز سے نئی دہلی کی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر موجود ہیں، جہاں کئی افراد نے رات بھی گزاری۔ رواں ہفتے پیر کے روز پارلیمنٹ کی طرف مارچ کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا تھا۔

اس کارروائی کے بعد ممبئی، بنگلورو اور پٹنہ سمیت کئی شہروں میں بھی چھوٹے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے الزام لگایا ہے کہ احتجاج کو بدنام کرنے کے لیے باہر سے لوگوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین ایک ماہ سے پرامن بیٹھے ہیں اور تشدد کا ماحول جان بوجھ کر پیدا کیا جا رہا ہے۔

احتجاجی مقام کے اردگرد کئی میٹرو اسٹیشنز بھی بند کیے گئے، مگر مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کارروائی کے بعد ان کا احتجاج ختم کرنے کے بجائے مزید مضبوط ہوا ہے۔

یہ تحریک مئی میں سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں شروع ہوئی تھی، مگر اب یہ بھارت میں نوجوانوں کے غصے اور تعلیمی نظام پر عدم اعتماد کی بڑی علامت بن چکی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بار بار پرچے لیک ہونے سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوا ہے اور صرف عدالتوں کا اعلان کافی نہیں ہے۔

بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اصل سیاسی ذمہ داری قبول کرنے سے بچ رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں