چینی حکام ملک میں تیار ہونے والے جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی بیرونِ ملک منتقلی پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام امریکا اور چین کے درمیان جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے دوران سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین کی وزارتِ تجارت نے علی بابا، بائٹ ڈانس اور زیپو سمیت بڑی مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مشاورت کی ہے۔ بات چیت میں اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے اہم ڈیٹا کو بیرونِ ملک منتقل کرنے اور غیرملکی صارفین کو جدید ماڈلز کے بنیادی تکنیکی اجزا، یعنی ماڈل ویٹس، ڈاؤن لوڈ کرنے کی اجازت محدود کرنے کی تجاویز زیرِ غور آئیں۔
ماڈل ویٹس دراصل وہ بنیادی معلومات اور عددی پیرامیٹرز ہوتے ہیں جن کی مدد سے کوئی اے آئی ماڈل کام کرتا ہے۔ ان تک رسائی محدود ہونے کی صورت میں غیرملکی کمپنیاں چینی اے آئی ماڈلز کو اپنے سرورز پر چلانے یا ان میں تبدیلی کرنے کے بجائے صرف چین کی جانب سے فراہم کردہ کلاؤڈ سروس کے ذریعے استعمال کر سکیں گی۔
چینی حکام اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کوالکوم اور تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی جیسے غیرملکی چپ ساز اداروں کو ہواوے، علی بابا اور بائٹ ڈانس کی تیار کردہ جدید چپ ڈیزائنز کی بنیاد پر سیمی کنڈکٹر بنانے سے روکا جائے۔ اس اقدام کا مقصد چینی کمپنیوں کی حساس ٹیکنالوجی اور دانشورانہ ملکیت کو بیرونِ ملک منتقل ہونے سے محفوظ رکھنا بتایا جا رہا ہے۔
مجوزہ پابندیوں کو چین کی ان ٹیکنالوجیز کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے جن کی برآمد ممنوع یا سرکاری اجازت سے مشروط ہے۔ چین اس فہرست کو پہلے بھی متعدد بار تبدیل کر چکا ہے اور 2025 میں بھی بعض حساس ٹیکنالوجیز کو برآمدی پابندیوں کے دائرے میں شامل کیا گیا تھا۔
تاہم یہ تجاویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور چین کی حکومت نے کوئی حتمی فیصلہ یا باقاعدہ ضابطہ جاری نہیں کیا۔ حکام صنعت سے رائے لے رہے ہیں، جبکہ وزارتِ تجارت، علی بابا، بائٹ ڈانس، زیپو، ہواوے، کوالکوم اور ٹی ایس ایم سی نے فوری طور پر اس رپورٹ پر تبصرہ نہیں کیا۔