یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی اور اس کے عالمی معاشی اثرات بنگلہ دیش میں مزید 12 لاکھ افراد کو غربت میں دھکیل سکتے ہیں۔
یونیسیف کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک، ایندھن اور ضروری اشیا کی بڑھتی قیمتیں بنگلہ دیشی خاندانوں کے گھریلو بجٹ پر شدید دباؤ ڈال رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چاول، دال، خوردنی تیل، سبزیاں، مچھلی اور مرغی جیسی بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ غریب خاندانوں کے لیے روزمرہ زندگی مزید مشکل بنا رہا ہے۔
یونیسیف کا کہنا ہے کہ معاشی دباؤ کے باعث خاندانوں کی غذائیت، صحت، تعلیم اور بچوں کے تحفظ کی سہولتوں تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
یونیسیف کی رپورٹ میں 167 سے زائد ممالک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، اور آبنائے ہرمز سے جڑی ترسیلی رکاوٹیں خاندانوں کی قوت خرید کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔
یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ اگر بحران جاری رہا تو 2026 کے آخر تک دنیا بھر میں 2 کروڑ 34 لاکھ مزید بچے مالی غربت میں جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک درمیانے درجے کے معاشی جھٹکے کی صورت میں 1 کروڑ 83 لاکھ مزید بچے مالی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اگر قیمتوں اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹیں طویل ہوئیں تو یہ تعداد 2 کروڑ 34 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
یونیسیف کی سربراہ کیتھرین رسل نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کی قیمت بچے ادا کر رہے ہیں، وہ بچے بھی جو اس خطے سے بہت دور رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحران جتنا طویل ہوگا، اس کے نتائج اتنے ہی سنگین ہوں گے۔
کیتھرین رسل کے مطابق تیزی سے بڑھتی قیمتیں کئی خاندانوں کے لیے خوراک اور تعلیم کو ناقابل برداشت بنا رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پہلے سے غربت میں رہنے والے بچوں کے لیے یہ جھٹکے زندگی بھر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایشیا اور افریقا عالمی سطح پر بچوں کی مالی غربت میں متوقع اضافے کا تقریباً 80 فیصد حصہ بن سکتے ہیں۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ ان خطوں میں پہلے ہی غربت کی شرح زیادہ ہے اور بیرونی معاشی جھٹکوں کے اثرات بھی زیادہ شدید ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں صومالیہ، ایتھوپیا اور نائیجیریا کی مثالیں بھی دی گئی ہیں، جہاں مشرق وسطیٰ کشیدگی کے معاشی اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایندھن کی قیمتیں چند دنوں میں 2 گنا سے زیادہ بڑھ گئیں، جس سے خوراک، پانی، ٹرانسپورٹ اور امدادی سرگرمیوں کی لاگت میں اضافہ ہوا۔
ایتھوپیا میں آبنائے ہرمز سے جڑی رکاوٹوں کے باعث ڈیزل کی قیمت 31 فیصد بڑھی، جبکہ امدادی ایندھن کے اخراجات 50 سے 70 فیصد تک بڑھ گئے۔ نائیجیریا میں کم آمدنی والے گھرانے اپنی آمدنی کا 60 سے 70 فیصد خوراک اور ٹرانسپورٹ پر خرچ کرتے ہیں، اس لیے معمولی قیمت اضافہ بھی ان کی قوت خرید کو کم کر دیتا ہے۔
یونیسیف نے حکومتوں، ڈونر ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ صحت، غذائیت، تعلیم اور بچوں کے تحفظ کے لیے فنڈنگ محفوظ رکھی جائے۔
یونیسیف نے بچوں کو مدنظر رکھنے والے سماجی تحفظ پروگرامز، خاص طور پر کیش ٹرانسفر، بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضروری اشیا اور خدمات تک سستی اور مسلسل رسائی یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
یونیسیف کے مطابق کمزور ممالک کو مالی گنجائش دینے کے لیے قرض ادائیگی میں نرمی یا قرضوں کی تنظیم نو جیسے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا کہ بروقت اور ہدفی پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو موجودہ بحران بچوں کی غربت میں کمی کے برسوں پر محیط فوائد کو ضائع کر سکتا ہے۔
کیتھرین رسل نے کہا کہ یہ بحران بچوں کی زندگیوں اور مستقبل کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر دنیا نے فوری کارروائی نہ کی تو جنگ، معاشی عدم استحکام اور بڑھتی قیمتوں کے مشترکہ اثرات لاکھوں بچوں کو مزید گہری غربت میں دھکیل دیں گے۔