پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی ہمارے لیے سب سے اہم ہے، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد میں پاک-چین فارماسیوٹیکل اور ہیلتھ کیئر بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے اور انہیں بہترین ممکنہ سکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ پوری قوت کے ساتھ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں چینی بھائیوں اور بہنوں کی سکیورٹی حکومت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چینی شہریوں، ماہرین اور منصوبوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

کانفرنس کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان صحت، بائیو ٹیکنالوجی اور ادویہ سازی کے شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق ان معاہدوں کی مجموعی مالیت تقریباً 44 کروڑ ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انہیں قابل عمل منصوبوں میں تبدیل کیا جائے گا۔

وزیراعظم کے مطابق یہ پیش رفت سی پیک 2.0 کو آگے بڑھانے کی سمت اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست ہے، جس نے مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔

شہباز شریف کے مطابق سی پیک 1.0 کے تحت چین نے پاکستان میں 30 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی، جو ملک کے لیے سب سے بڑا سرمایہ کاری پورٹ فولیو تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین معاشی ترقی، اسٹریٹجک پیش رفت اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑی عالمی طاقت ہے۔

انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین کی ترقی دور اندیش اور متحرک قیادت کا نتیجہ ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس پاکستان میں ادویہ سازی کی صنعت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں کے نتیجے میں زندگی بچانے والی ادویات، ویکسین، تحقیق و ترقی اور پڑوسی ممالک کو برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیراعظم پاکستان کی یہ یقین دہانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچستان میں چینی منصوبوں اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔

بلوچستان میں اس وقت آپریشن شعبان کے تحت سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، جو متعدد بڑے دہشت گرد حملوں کے بعد شروع کی گئی تھیں۔

پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران چینی شہری اور منصوبے کئی بار دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی کے دسمبر 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے اس وقت تک پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں 20 چینی شہری مارے گئے اور 34 زخمی ہوئے۔

مارچ 2024 میں بشام میں داسو ڈیم منصوبے پر کام کرنے والے 5 چینی شہری خودکش حملے میں مارے گئے تھے۔

اپریل 2022 میں کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے باہر خودکش حملے میں 3 چینی شہریوں سمیت 4 افراد مارے گئے تھے۔

جولائی 2021 میں خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے قریب بس پر حملے میں 9 چینی انجینئرز سمیت کم از کم 12 افراد مارے گئے تھے۔

۔

اپنا تبصرہ لکھیں