پاکستان سمیت موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ممالک کو نقصان اور تلافی کے عالمی فنڈ سے رقوم کے اجرا کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ فنڈ کی انتظامی مجلس نے محدود مالی وسائل اور بڑی تعداد میں درخواستوں کے باعث رقوم کی منظوری دسمبر 2026 تک مؤخر کر دی ہے۔
یہ فیصلہ منیلا میں 8 سے 10 جولائی تک ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جہاں امدادی تجاویز پر کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق اس تاخیر پر سماجی تنظیموں نے تشویش ظاہر کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ موسمیاتی آفات کا سامنا کرنے والی کمزور آبادیوں کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔
یہ فنڈ سال 2022 میں مصر میں ہونے والی اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں قائم کیا گیا تھا۔ بعد ازاں دبئی میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں اسے فعال بنانے کا فیصلہ ہوا، جبکہ آذربائیجان میں ہونے والی کانفرنس کے بعد اسے مکمل طور پر عملی شکل دی گئی۔
فنڈ کے پاس اس وقت تقریباً 50 کروڑ ڈالر موجود ہیں، جبکہ ابتدائی تقسیم کے لیے 25 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے تھے۔ برازیل میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس کے بعد پہلی بار امدادی تجاویز طلب کی گئیں، جس کے جواب میں 119 ترقی پذیر ممالک نے 176 درخواستیں جمع کرائیں۔
ان درخواستوں کی مجموعی مالی طلب 2.8 ارب ڈالر ہے، جو دستیاب ابتدائی رقم سے 11 گنا زیادہ ہے۔ دستاویزات کے مطابق ہر تجویز کے لیے اوسطاً ایک کروڑ 59 لاکھ ڈالر مانگے گئے، جبکہ درخواستوں کی رقم 50 لاکھ سے 2 کروڑ ڈالر تک ہے۔
منیلا اجلاس میں ہیٹی، جمیکا، نائیجیریا اور آئیوری کوسٹ کی تجاویز پر غور ہونا تھا، مگر فیصلہ دسمبر 2026 تک مؤخر کر دیا گیا۔
پاکستان کے نمائندے علی توقیر شیخ کے مطابق 15 جون درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی، اور اسی دن تقریباً 100 درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان کے مطابق ابھی صرف چند تجاویز کا ابتدائی جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ انتظامی مجلس دسمبر تک تقریباً دو تہائی درخواستوں کا جائزہ مکمل کرنے کی امید رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگلے اجلاس میں تقریباً ایک درجن درخواستوں کی منظوری متوقع ہے، خاص طور پر اگر مالی ذخیرے میں مزید 10 کروڑ ڈالر شامل ہو جائیں۔
پاکستان نے بھی اس فنڈ میں 3 تجاویز جمع کرائی ہیں۔
دوسری جانب سماجی تنظیموں نے تاخیر، شفافیت کے فقدان اور دفتری پیچیدگیوں پر تنقید کی ہے۔ سماجی تنظیموں کے مطابق وسائل جمع کرنے کی اہم حکمتِ عملی بھی دسمبر تک مؤخر کر دی گئی ہے، جس سے فنڈ کے پاس مطلوبہ سالانہ مالی وسائل جمع کرنے کا واضح لائحۂ عمل موجود نہیں۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ دفتری اور ادارہ جاتی رکاوٹیں فنڈ کی رفتار کو سست کر رہی ہیں، جس کا براہِ راست نقصان موسمیاتی آفات سے متاثر آبادیوں کو ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ معاملہ نہایت اہم ہے، کیونکہ سیلاب، شدید گرمی، زرعی نقصانات اور صحت کے مسائل سے متاثر آبادیوں کو فوری اور قابلِ اعتماد مالی مدد کی ضرورت ہے۔