رواں سال دنیا بھر میں کرپٹو کرنسیز کی چوری کی وارداتوں میں مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کی خطیر رقم چرائی گئی، جن میں شمالی کوریا کے ہیکرز نے سبقت حاصل کی۔
برطانوی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، شمالی کوریا کے ہیکرز نے 1.3 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسیز چرائیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ تحقیقاتی ادارے چینالیسس نے انکشاف کیا کہ بعض مواقع پر ہیکرز نے خود کو ریموٹ آئی ٹی ورکر ظاہر کر کے کرپٹو کمپنیوں میں رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
رواں سال ہیکرز کی جانب سے چرائی گئی کرپٹو کرنسی کی مالیت گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ رہی، تاہم یہ 2021 اور 2022 کے مقابلے میں کم ہے۔
چوری کے بڑے واقعات میں جاپانی کرپٹو ایکسچینج ڈی ایم ایم بٹ کوائن سے 30 کروڑ ڈالر اور بھارت کے ایک کرپٹو ایکسچینج سے 23 کروڑ ڈالر کی چوری شامل ہیں۔
امریکی حکومت کے مطابق شمالی کوریا کی حکومت مالی وسائل کے حصول اور پابندیوں سے بچنے کے لیے سائبر کرائمز اور کرپٹو چوری کا سہارا لے رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی عدالت نے شمالی کوریا کے 14 شہریوں پر امریکی کمپنیوں سے فنڈز چوری کر کے انہیں ہتھیاروں کے پروگرام میں استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔