ورزش صرف جسمانی فٹنس کے لیے نہیں بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی نہایت فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی مزاج بہتر بنانے، ذہنی دباؤ کم کرنے، نیند بہتر کرنے اور روزمرہ زندگی میں جذباتی توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
جب انسان ورزش کرتا ہے تو جسم میں اینڈورفنز نامی قدرتی کیمیکل خارج ہوتے ہیں، جو ذہنی دباؤ کم کرتے اور خوشی کا احساس بڑھاتے ہیں۔ ورزش سے اسٹریس ہارمون کورٹیسول کی سطح بھی کم ہو سکتی ہے، جبکہ سیروٹونن اور ڈوپامین جیسے ہارمونز بہتر مزاج اور ذہنی سکون میں کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق باقاعدہ ورزش کرنے والے افراد میں ڈپریشن اور بے چینی کے امکانات نسبتاً کم ہو سکتے ہیں۔ جسمانی سرگرمی انسان کو مصروف رکھتی ہے، خود اعتمادی بڑھاتی ہے اور منفی خیالات سے توجہ ہٹانے میں مدد دیتی ہے۔
ورزش نیند کے معیار کو بھی بہتر بناتی ہے۔ مناسب نیند نہ صرف جسم کو آرام دیتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ سے نمٹنے، واضح سوچنے اور جذبات کو بہتر انداز میں سنبھالنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ذہنی صحت کے لیے مختلف اقسام کی ورزش فائدہ دے سکتی ہیں۔ تیز چہل قدمی، دوڑ، سائیکلنگ اور تیراکی مزاج بہتر کرنے میں مددگار ہیں۔ ہلکی پھلکی طاقت والی ورزشیں خود اعتمادی بڑھا سکتی ہیں، جبکہ یوگا جسم اور ذہن کو پرسکون کرنے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ گروپ میں کھیل یا ورزش کرنے سے سماجی تعلقات بہتر ہوتے ہیں اور تنہائی کا احساس کم ہو سکتا ہے۔
ورزش شروع کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ ابتدا ہی میں سخت معمول اپنایا جائے۔ روزانہ چند منٹ کی چہل قدمی، ہلکی اسٹریچنگ یا گھر کے کاموں میں زیادہ حرکت بھی ایک اچھی شروعات ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سب سے اہم بات مستقل مزاجی ہے، کیونکہ چھوٹی مگر باقاعدہ سرگرمی بھی ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
بہتر ہے کہ انسان وہ سرگرمی منتخب کرے جس سے اسے خوشی ملے، تاکہ ورزش بوجھ محسوس نہ ہو۔ دن میں 10، 10 منٹ کی مختصر سرگرمیاں بھی فائدہ دے سکتی ہیں۔ دوستوں یا گھر والوں کے ساتھ ورزش کرنا بھی حوصلہ بڑھانے کا اچھا طریقہ ہے۔
اگر کسی شخص کو ڈپریشن، بے چینی یا شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہو تو ورزش مددگار ثابت ہو سکتی ہے، مگر اسے علاج کا مکمل متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایسی صورت میں ماہرِ صحت یا ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔