پاکستان: وزارتِ صحت کی ‘ریبیز’ کی روک تھام کے لیے قومی لائحہ عمل بنانے کی منظوری

پاکستان کے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ملک بھر میں کتے کے کاٹنے کے بڑھتے واقعات اور اس سے پھیلنے والی جان لیوا بیماری ‘ریبیز’ کی روک تھام کے لیے قومی لائحۂ عمل تیار کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اتوار کے روز انڈس ہسپتال کے ماہرین نے اس بیماری کی روک تھام میں درپیش مسائل پر وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ ملک میں کتے کے کاٹنے کے واقعات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسپتالوں میں اس بیماری کے کیسز کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے اور نگرانی کا مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔

ماہرین کے وفد نے بتایا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں ہر سال 5 ہزار سے زائد افراد اس بیماری کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جبکہ کتے کے کاٹنے کے لاکھوں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس بیماری سے سب سے زیادہ غریب طبقہ متاثر ہوتا ہے، جبکہ متاثرین میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ریبیز کی روک تھام اور قابو پانے کے لیے قومی لائحۂ عمل تیار کیا جائے۔

اس مقصد کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک قومی مشاورتی گروہ قائم کیا جائے گا، جو اس لائحۂ عمل کی تیاری میں رہنمائی کرے گا۔

وفاقی وزیر نے ملک بھر میں عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ لوگوں کو کتے کے کاٹنے سے بچاؤ، فوری علاج اور بروقت حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر کو سندھ میں اس بیماری کی روک تھام کے لیے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری قابلِ علاج اور قابلِ روک تھام ہے، مگر بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں