ہم اپنے بچوں کو کب محفوظ بنائیں گے؟

کسی بھی معاشرے کی اصل شناخت اس کی اقتصادی ترقی، بلند و بالا عمارتوں یا جدید انفراسٹرکچر سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں کے بچے کتنے محفوظ ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بچے خوف کے سائے میں زندگی گزاریں، جہاں والدین اپنے بچوں کو سکول، مدرسے، کھیل کے میدان یا بازار بھیجتے ہوئے بے یقینی کا شکار ہوں، وہ معاشرہ اپنی اخلاقی بنیادوں پر سنجیدہ سوالات کا سامنا کر رہا ہوتا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی استحصال، زیادتی اور بعض واقعات میں اس کے بعد قتل جیسے اندوہناک جرائم نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہر سانحے کے بعد قوم غم و غصے کا اظہار کرتی ہے، احتجاج ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر سخت سزاؤں کے مطالبات سامنے آتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ معاملہ پھر پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ چند دن بعد کوئی نیا سانحہ ہمارے ضمیر کو پھر جھنجھوڑ دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب تک صرف افسوس کرتے رہیں گے؟ کب ہم ان جرائم کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے؟

یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم محض قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی، اخلاقی اور نفسیاتی بحران ہیں۔ ان جرائم کے اسباب متعدد ہیں، جن میں خاندانی غفلت، بچوں کی مناسب تربیت کا فقدان، قانون پر عمل درآمد میں کمزوریاں، متاثرہ خاندانوں کی خاموشی، اور بعض صورتوں میں مجرموں کا سزا سے بچ نکلنا شامل ہیں۔ جب کسی معاشرے میں مجرم کو یقین ہو جائے کہ وہ قانون کی گرفت سے بچ سکتا ہے تو جرائم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والا ہر شخص اجنبی نہیں ہوتا۔ دنیا بھر کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے واقعات میں مجرم ایسا شخص ہوتا ہے جسے بچہ یا اس کا خاندان پہلے سے جانتا ہوتا ہے۔ اس لیے صرف بچوں کو “اجنبیوں سے بچنے” کی نصیحت کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ ایسا اعتماد پیدا کریں کہ وہ کسی بھی پریشان کن تجربے کے بارے میں بلا خوف بات کر سکیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جنسی استحصال جیسے حساس موضوعات پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے لاعلم رہتے ہیں، والدین گفتگو سے گریز کرتے ہیں، اور مجرم اسی خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمر کے مطابق، مہذب اور ذمہ دارانہ انداز میں بچوں کو جسمانی حدود، ذاتی تحفظ اور خطرناک رویوں کے بارے میں آگاہ کرنا بے حیائی نہیں بلکہ ان کی حفاظت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

اسلام نے بھی بچوں کے احترام، ان کی عزت اور ان کے حقوق کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بچوں کے ساتھ شفقت، محبت اور حسنِ سلوک کی تعلیم دی۔ کسی معصوم کی جان، عزت یا وقار پر حملہ اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو صرف سماجی نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔

ریاست کی ذمہ داری صرف قوانین بنانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا بھی ہے۔ متاثرہ بچوں کے مقدمات کی تیز رفتار، غیر جانبدارانہ اور حساس انداز میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔ عدالتی کارروائی غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو اور ہر متاثرہ بچے کو قانونی، نفسیاتی اور سماجی مدد میسر آئے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے تاکہ معاشرے میں قانون پر اعتماد قائم رہے۔

اسی طرح تعلیمی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ تعلیمی ادارے صرف تعلیم دینے کے مراکز نہیں بلکہ بچوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ اساتذہ اور عملے کی مناسب جانچ، بچوں کے تحفظ سے متعلق واضح پالیسی، شکایات کے مؤثر نظام اور والدین کے ساتھ مسلسل رابطہ ایسے اقدامات ہیں جو خطرات کو کم کر سکتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف امتحانات میں کامیابی سکھا رہے ہیں یا انہیں زندگی کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی دے رہے ہیں؟ اگر ایک بچہ یہ نہیں جانتا کہ نامناسب رویے کی صورت میں اسے کیا کرنا ہے، کس سے مدد مانگنی ہے اور اپنی حفاظت کیسے کرنی ہے تو ہم اس کی تعلیم کا ایک اہم حصہ نظر انداز کر رہے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف حکومت یا پولیس کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ جب تک والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما، میڈیا، سول سوسائٹی اور عام شہری اپنی اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے قبول نہیں کریں گے، اس وقت تک صرف سخت بیانات یا وقتی احتجاج دیرپا تبدیلی نہیں لا سکیں گے۔

والدین اس جدوجہد کی پہلی اور سب سے اہم کڑی ہیں۔ بچے کی پہلی درسگاہ گھر ہے، اور اس کا پہلا محافظ بھی اس کے والدین ہیں۔ بچوں کے ساتھ ایسا دوستانہ اور اعتماد پر مبنی تعلق قائم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ہر خوشی، خوف اور پریشانی بلا جھجھک اپنے والدین سے بیان کر سکیں۔ اگر بچہ کسی شخص سے ملنے سے گھبرائے، اس کے رویے میں اچانک تبدیلی آ جائے، وہ غیر معمولی خاموش یا خوف زدہ ہو جائے، تو ان علامات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اکثر بچے الفاظ میں اپنی تکلیف بیان نہیں کر پاتے، لیکن ان کا رویہ بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف حکومت یا پولیس کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ جب تک والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما، میڈیا، سول سوسائٹی اور عام شہری اپنی اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے قبول نہیں کریں گے، اس وقت تک صرف سخت بیانات یا وقتی احتجاج دیرپا تبدیلی نہیں لا سکیں گے۔

سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ کسی بھی واقعے کے بعد غیر مصدقہ اطلاعات، افواہیں اور جذباتی تبصرے پھیلانے کے بجائے ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ متاثرہ بچوں کی تصاویر، نام یا دیگر معلومات شیئر کرنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر خبر کے پیچھے ایک معصوم زندگی اور ایک غمزدہ خاندان ہوتا ہے۔

اسلام نے انسانی جان، عزت اور حرمت کو بے حد اہمیت دی ہے۔ ایک معصوم بچے کی عزت اور جان کا تحفظ صرف قانونی نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی فرض بھی ہے۔ جو معاشرہ اپنے بچوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتا، وہ اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو سیاسی، لسانی یا طبقاتی بحث سے بالاتر ہو کر قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ہر سانحہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ خاموشی مجرم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر ہم نے خاموش رہنے کے بجائے شعور کو عام کیا، بچوں کی بات سننا سیکھا، قانون کو مضبوط بنایا اور اپنی اجتماعی ذمہ داری کو قبول کیا تو یقیناً ایسے جرائم میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں