‘لو، کر لو بلاک’، دِلجیت دوسانجھ کی فلم “ستلج” دو دن کے اندر او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹا دی گئی

بھارتی گلوکار اور اداکار دِلجیت دوسانجھ نے اپنی متنازع فلم ستلج کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو سے ہٹائے جانے کے بعد سخت ردعمل دیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق دِلجیت دوسانجھ نے انسٹاگرام لائیو سیشن میں کہا کہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ فلم کو پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جائے گا، اسی لیے فلم کی ریلیز خاموشی اور اچانک انداز میں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ستلج جمعہ کی شام زی فائیو پر ریلیز ہوئی تھی، تاہم اتوار کی شام اسے بھارت میں پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔

یہ فلم انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھلڑا کی زندگی پر مبنی ہے، جنہوں نے 1990 کی دہائی میں پنجاب میں مبینہ ماورائے عدالت قتل اور نامعلوم افراد کی لاشوں کی آخری رسومات سے متعلق معاملے کو اجاگر کیا تھا۔ فلم پہلے پنجاب’95 کے نام سے جانی جاتی تھی، تاہم طویل سنسرشپ تنازع کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے ستلج رکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق فلم کو بھارت میں تھیٹر ریلیز کے لیے 2023 سے مشکلات کا سامنا تھا، جبکہ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کی جانب سے متعدد کٹس کا مطالبہ بھی سامنے آیا تھا۔

دِلجیت دوسانجھ نے انسٹاگرام لائیو میں کہا کہ اگر فلم کی باقاعدہ تشہیر کی جاتی تو شاید اسے ریلیز ہی نہ ہونے دیا جاتا، اسی لیے اسے اچانک او ٹی ٹی پر جاری کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے دیکھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ فلم کو روکنے یا پابندی لگانے سے اس پر بات مزید بڑھے گی، کیونکہ ایک بار کوئی چیز انٹرنیٹ پر آ جائے تو اسے مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں رہتا۔

دِلجیت نے ان مداحوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلم پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے سے پہلے دیکھ لی یا ڈاؤن لوڈ کر لی۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، “لو، کر لو بلاک! سب نے فلم ڈاؤن لوڈ کر لی ہے۔ اب کیا کرو گے؟ یہ لوگ یا تو ناسمجھ ہیں یا بہت معصوم، اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ انٹرنیٹ سے کوئی چیز مکمل طور پر ہٹا سکتے ہیں”۔

زی فائیو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ستلج بھارت میں اگلے نوٹس تک دستیاب نہیں ہوگی، تاہم پلیٹ فارم مناسب قانونی اور ضابطہ جاتی طریقوں سے فلم کو دوبارہ ناظرین تک لانے کی کوشش کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق فلم کے پروڈیوسر آر ایس وی پی نے تصدیق کی کہ فلم کو حکومتی ہدایت پر ہٹایا گیا، جبکہ این ڈی ٹی وی نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فلم کے کچھ حصوں کو بھارت کے خلاف استعمال کیا جا سکتا تھا۔

فلم کی ہدایت کاری ہنی تریہن نے کی ہے، جبکہ کاسٹ میں دِلجیت دوسانجھ کے ساتھ ارجن رامپال، سووِندر وکی اور گیتیکا ودیا اوہلیان شامل ہیں۔ دِلجیت دوسانجھ کے مطابق اس فلم کی ریلیز کے لیے ٹیم نے کئی سال جدوجہد کی، اور ان کے لیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ فلم کسی نہ کسی طرح عوام تک پہنچ جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں