تعلیمی اصلاحات، بھارتی میڈیکل طلبہ کے لیے ازبکستان توجہ کا مرکز بننے لگا

ازبکستان بھارتی طلبہ کے لیے میڈیکل تعلیم کا ایک اہم مرکز بن کر ابھر رہا ہے، جہاں 2026 کے داخلہ سیزن کے دوران ایم بی بی ایس کے خواہش مند طلبہ کی دلچسپی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اے این آئی اور وی ایم پی ایل کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 16 ہزار بھارتی طلبہ ازبکستان کے مختلف میڈیکل اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ازبکستان میں تعلیمی معیار، طبی عملی تربیت، نسبتاً کم فیس، انگریزی ذریعہ تعلیم کے پروگرامز اور حکومتی میڈیکل جامعات بھارتی طلبہ اور والدین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

بھارتی سفارتخانہ تاشقند کے مطابق، وہ ازبکستان حکومت اور میڈیکل جامعات کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ بھارتی طلبہ کی رہنمائی کی جا سکے اور میڈیکل تعلیم کو نیشنل میڈیکل کمیشن کے غیر ملکی میڈیکل گریجویٹ لائسنسنگ ضوابط 2021 سے ہم آہنگ بنانے میں مدد مل سکے۔

سفارتخانے کے مطابق نیشنل میڈیکل کمیشن کا یکم اپریل 2026 کا انتباہی نوٹ ایک مشاورتی ہدایت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس کا مقصد طلبہ کو داخلہ لینے سے پہلے متعلقہ میڈیکل جامعہ کی غیر ملکی میڈیکل گریجویٹ لائسنسنگ ضوابط کے مطابق تعمیل کی تصدیق کی طرف متوجہ کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ازبک حکام اور جامعات کے ساتھ انگریزی ذریعہ تعلیم کو مضبوط بنانے، طبی عملی تجربہ بہتر کرنے، انٹرن شپ کے معیارات کو مؤثر بنانے اور نیشنل میڈیکل کمیشن کی ضروریات کے مطابق تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنانے پر بات چیت جاری ہے۔

بھارتی سفارتخانے نے ازبکستان میں میڈیکل تعلیم کے خواہش مند طلبہ کے لیے تفصیلی رہنما ہدایات بھی جاری کی ہیں، جن میں تسلیم شدہ اداروں، داخلہ طریقہ کار، ضابطہ جاتی تقاضے، فیس، رہائشی سہولیات اور دیگر اہم نکات شامل ہیں۔

ازبکستان میں بھارتی طلبہ جن بڑے میڈیکل اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں، ان میں اندیجان اسٹیٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، بخارا اسٹیٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، سمرقند اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی، تاشقند اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی، تاشقند فارماسیوٹیکل انسٹی ٹیوٹ، ارگینچ اسٹیٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، فرغانہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اور قراقلپاقستان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔

رپورٹ میں غیر ملکی میڈیکل گریجویٹ امتحان دسمبر 2025 کے نتائج کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے، جن کے مطابق ازبکستان سے فارغ التحصیل طلبہ کا مجموعی کامیابی کا تناسب تقریباً 42 فیصد رہا، جو بیرونِ ملک ایم بی بی ایس مقامات میں نمایاں شرح سمجھی جا رہی ہے۔

بھارتی سفارتخانے نے طلبہ اور والدین کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی ادارے میں داخلہ لینے سے پہلے اس کی ضابطہ جاتی حیثیت، غیر ملکی طبی گریجویٹ لائسنسنگ ضوابط کے مطابق تعمیل، ذریعہ تعلیم، رہائشی سہولیات، فیس اور داخلہ معاہدے کی مکمل تصدیق کریں، اور صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی اور ازبک حکام کے درمیان مسلسل تعاون، تعلیمی اصلاحات اور ادارہ جاتی رابطوں کے باعث ازبکستان آنے والے برسوں میں بھارتی ایم بی بی ایس طلبہ کے لیے ایک اہم مقام برقرار رہ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں