پاکستان اور ترکیہ نے دوطرفہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
صدر ایردوان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ترکیہ کی یکجہتی ہر شعبے میں جاری ہے، اور دونوں ممالک تجارتی حجم کو پہلے سے طے شدہ 5 ارب ڈالر کے ہدف تک لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی وزارتِ تجارت کراچی میں ترک کاروباری افراد کے لیے خصوصی اقتصادی زون کے قیام پر کام کر رہی ہیں۔
ترک صدر کے مطابق ترجیحی تجارتی معاہدے کا دائرہ بڑھانے کے لیے بھی مذاکرات جاری ہیں، جبکہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس پاکستان اور ترکیہ کے سرمایہ کاری تعلقات کو مزید آگے بڑھانے میں مدد دے گی۔
صدر ایردوان نے کہا کہ دفاعی صنعت میں تعاون دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کا اہم ستون ہے، اور اس شعبے میں نئے منصوبوں کے ساتھ تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے توانائی، ٹرانسپورٹ، اہم معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ایردوان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں خطے میں جو سکون پیدا ہوا، اس سے دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔
ترک صدر نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی عوام کو اس کوشش میں اہم کردار ادا کرنے پر مبارک باد دی۔
صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مسائل کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کے ہر قدم کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو دوبارہ جنگ، بارود اور خونریزی کی طرف دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام کے درمیان قلبی تعلق موجود ہے اور دونوں ممالک کی دوستی تاریخ، ثقافت اور باہمی اعتماد پر استوار ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ترکیہ کی شراکت داری کو نئی جہت دینے کے لیے دونوں ممالک پرعزم ہیں۔
وزیراعظم نے شاندار استقبال اور پرتپاک میزبانی پر صدر ایردوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی ایک شاندار تاریخ ہے اور دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ترکیہ کی جنگِ آزادی کے دوران برصغیر کے مسلمانوں نے بھرپور حمایت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ پاکستان اور ترکیہ کا رشتہ محض سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک ’دو دل اور ایک جان‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا جلال الدین رومی اور علامہ محمد اقبال کی فکر دونوں اقوام کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکیہ کی مختلف شعبوں میں ہونے والی غیر معمولی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ترکیہ کے ساتھ اپنی دوستی پر فخر ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ ترکیہ کی کاروباری شخصیات کے ساتھ ’بی ٹو بی فورم‘ میں اہم نشست ہوئی، جبکہ صدر ایردوان کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں جامع اور تعمیری بات چیت کی گئی۔ اس دوران خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری، تجارت کے فروغ اور اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دونوں دوطرفہ تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قبرص کے معاملے پر ترکیہ کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے، جبکہ مسئلہ کشمیر پر ترکیہ کی دوٹوک اور مستقل حمایت پر صدر ایردوان اور ترک حکومت کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ترکیہ باہمی تعاون کو مزید وسعت دیتے ہوئے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی جہت دیں گے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ترکیہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کو پاکستان کا انتہائی مضبوط اور قابلِ اعتماد دوست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات تاریخی ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ان مضبوط جذباتی تعلقات کو ٹھوس معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں توانائی، کان کنی و معدنیات، انفراسٹرکچر، میری ٹائم، لاجسٹکس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، مینوفیکچرنگ، زراعت اور نجکاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت فراہم کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے چالک ہولڈنگ، البیراک گروپ، ترک چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز یونین اور دیگر کاروباری اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
چالک ہولڈنگ کے ساتھ ملاقات میں توانائی، انفراسٹرکچر، آئی ٹی اور نجکاری کے شعبوں میں مواقع پر بات چیت ہوئی، جبکہ البیراک گروپ کو میری ٹائم انفراسٹرکچر، بندرگاہوں کی جدید کاری اور لاجسٹکس کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی گئی۔
وزیراعظم نے ترک کاروباری تنظیم ٹی او بی بی کو پاکستان میں اعلیٰ سطحی کاروباری وفد بھیجنے کی دعوت بھی دی، تاکہ ترک سرمایہ کار پاکستان میں موجود نئے مواقع کا براہِ راست جائزہ لے سکیں۔
ایک الگ ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے ترک سیل کے چیف ایگزیکٹو علی طہٰ کوچ کو پاکستان-ترکیہ ڈیجیٹل کوریڈور کے تصور سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے ترک سیل کو پاکستان میں 5 جی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، نیٹ ورک آپٹمائزیشن، اسپیکٹرم مینجمنٹ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، ٹیلی کام آلات کی مقامی تیاری، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل اسکلز کے شعبوں میں تعاون کی دعوت دی۔
ترک کاروباری رہنماؤں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری ماحول میں بہتری اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو سراہا۔
انہوں نے پاکستان کی معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مختلف اسٹریٹجک شعبوں میں سرمایہ کاری اور طویل المدتی شراکت داری بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔