امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک کسان نے اپنی فصل ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ٹنوں کے حساب سے آلوچےمفت بانٹنا شروع کر دیے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، سینٹرل کیلیفورنیا کے علاقے ریڈلی سے تعلق رکھنے والے کسان سیزر مورا ایک قانونی تنازع کے باعث اپنی سفید آلوچے کی فصل فروخت نہیں کر پا رہے۔
مورا کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل دوسرے سال اپنی تیار فصل کو درختوں سے گر کر سڑتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے اسے لوگوں میں مفت تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے ہزاروں افراد مورا کے باغ پہنچے، جہاں انہیں مفت آلوچے دی گئیں۔ پیر سے اب تک وہ ایک لاکھ پاؤنڈ سے زائد، یعنی تقریباً 45 ہزار کلوگرام آلوچے تقسیم کر چکے ہیں۔
یہ تنازع “مونالیز” نامی سفید آلوچہ کی ایک قسم سے متعلق ہے، جس کے بارے میں ایک کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اسے اس قسم کی پیداوار اور فروخت کے خصوصی حقوق حاصل ہیں۔ گیومارا برادرز فروٹ کمپنی نے 2023 میں مورا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ کمپنی کا الزام ہے کہ مورا نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پھل دوسری پیکنگ کمپنیوں کو فروخت کیے۔
دوسری جانب مورا نے کمپنی پر غیر منصفانہ اور دھوکہ دہی پر مبنی کاروباری طریقوں کا الزام لگایا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ دو تحریری معاہدوں سے متعلق اختلاف ہے اور اسے عدالت میں حقائق کی بنیاد پر حل کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مورا نے 2017 میں کمپنی کے ساتھ ذیلی لائسنسنگ معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت وہ مونالیز آلوچے اگا سکتے تھے۔ 2019 میں ایک مارکیٹنگ معاہدہ بھی ہوا، جس کے تحت پھل کی پیکنگ اور فروخت کمپنی کے ذریعے ہونی تھی۔
مورا کے مطابق کمپنی نے انہیں بڑے منافع کی امید دلائی تھی، مگر بعد میں ان کی فصل کا بڑا حصہ ضائع ہوا اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ تاہم کمپنی ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
مقدمے کی سماعت رواں ماہ کے آخر میں شیڈول ہے، جبکہ عدالت نے کمپنی کے معاہدے کی خلاف ورزی سے متعلق دعوے کو آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔
مورا کا کہنا ہے کہ طویل قانونی لڑائی نے انہیں مایوس کر دیا ہے اور آلوچے فروخت نہ کر پانے کی وجہ سے ان کی آمدنی کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے۔ مقامی رضاکاروں اور خاندان کے افراد نے “No Nectarines Wasted” کی شرٹس پہن کر پھلوں کی پیکنگ اور تقسیم میں مدد کی۔
مورا کے مطابق اس مشکل صورتحال میں ان کے لیے سب سے بڑی تسلی یہی ہے کہ ان کی فصل ضائع ہونے کے بجائے لوگوں کے کام آ رہی ہے۔