وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ کے بڑے کاروباری گروپس سے ملاقاتیں، ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے ہفتے کے روز استنبول میں ترکیہ کے بڑے کاروباری گروپس اور صنعتی تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم آفس سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقاتوں کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور پاکستان میں ترکیہ کی سرمایہ کاری بڑھانا تھا۔

وزیراعظم نے چالک ہولڈنگ کے چیئرمین احمد چالک، البیراک گروپ کے چیئرمین احمد البیراک اور ترکیہ کی یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز کے صدر رفعت حصار جکلی اوغلو سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات موجود ہیں، جنہیں مضبوط معاشی اور سرمایہ کاری شراکت داری میں بدلنے کی ضرورت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے، سرمایہ کار دوست پالیسی فریم ورک موجود ہے، اور حکومت کاروبار کے لیے شفاف، قابلِ اعتماد اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعظم نے ترکیہ کی کمپنیوں کو پاکستان کے ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی، جن میں توانائی، کان کنی و معدنیات، انفراسٹرکچر، میری ٹائم، لاجسٹکس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، مینوفیکچرنگ، زراعت اور نجکاری شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر اسٹریٹجک سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کر رہی ہے۔

چالک ہولڈنگ کے چیئرمین سے ملاقات میں وزیراعظم نے توانائی، انفراسٹرکچر، آئی ٹی اور نجکاری کے شعبوں میں پاکستان میں موجود مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستان میں چالک انرجی اور گیپ انشات کے ذریعے کمپنی کی موجودہ سرگرمیوں کو مزید تعاون کی مضبوط بنیاد قرار دیا۔

البیراک گروپ کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان میں کمپنی کی طویل شمولیت کو سراہا اور اسے میری ٹائم انفراسٹرکچر، بندرگاہوں کی جدید کاری اور لاجسٹکس کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی۔

ٹی او بی بی کے صدر سے ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے نجی شعبوں کے درمیان باقاعدہ رابطوں کے لیے ایک منظم ادارہ جاتی طریقہ کار قائم کرنے کی تجویز دی۔

انہوں نے ٹی او بی بی کو اعلیٰ سطحی کاروباری وفد پاکستان لانے کی دعوت بھی دی تاکہ ترکیہ کے سرمایہ کار پاکستان میں ابھرتے ہوئے سرمایہ کاری مواقع کا جائزہ لے سکیں۔

بیان کے مطابق، ترکیہ کے کاروباری رہنماؤں نے پاکستان میں معاشی اصلاحات، بہتر سرمایہ کاری ماحول اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کیا اور مختلف اسٹریٹجک شعبوں میں طویل المدتی شراکت داری اور سرمایہ کاری بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں