ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای کی آخری رسومات کا باقاعدہ آغاز کل سے ہو گیا تھا۔ یہ رسومات 9 جولائی تک جاری رہیں گی۔کل ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں خامنہ ای کا تابوت تہران کے مذہبی مرکز امام خمینی مصلیٰ میں رکھ دیا گیا۔
خامنہ ای کے علاوہ ان کی صاحبزادی، بہو، داماد اور نواسی کے تابوت بھی سوگواروں کے لیے رکھے گئے ہیں۔خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں اپنے اہلِ خانہ سمیت شہید ہوئے تھے۔
کل بین الاقوامی وفود کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہا، جو خصوصی تقریب میں خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے تھے۔ آج سے تہران کے اس مرکز میں عوام کے لیے دو روزہ تقریب بھی منعقد کی جا رہی ہے ، جو 5 جولائی کو رات 8 بجے تک جاری رہے گی۔خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی مرکزی نمازِ جنازہ 5 جولائی کی صبح ادا کی جائے گی۔
تہران کے مذہبی مرکز گرینڈ مصلی میں 1 کروڑ سے زائد سوگواران جمع ہیں، جنہیں کالے اور سرجھنڈے اٹھا رکے ہیں۔
مرکزی نمازِ جنازہ کے بعد 6 جولائی کو دارالحکومت تہران میں جنازے کا ایک بڑا جلوس نکالا جائے گا، جس میں 2 کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔
اس سے قبل ایران کی مذہبی حکومت کے بانی آیت اللہ خمینی کی نمازِ جنازہ میں ایک کروڑ افراد نے شرکت کی تھی۔
تہران کے بعد 7 جولائی کو قم میں بھی جنازے کا ایک جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد میت اسی روز شام کو عراقی شہر نجف پہنچے گی، جہاں کربلا میں سہ پہر 4 بجے جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے۔
ان رسومات کے بعد 9 جولائی کو خامنہ ای کی تدفین شمال مشرقی شہر مشہد میں واقع شیعوں کے آٹھویں امام، امام رضاؑ کے مزار پر کی جائے گی۔